امن عالم کا قیام

‎دنیا میں امن کا قیام (World Peace) ایک ایسا بنیادی انسانی مقصد ہے جس کے لیے جنگ، نفرت اور دہشت گردی کے بجائے برداشت، مکالمے اور عدل و انصاف کی بنیاد پر بقائے باہمی کی ضرورت ہے۔

پاکستان اور دیگر عالمی طاقتیں مشرق وسطیٰ اور خطے میں استحکام کے لیے مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے کردار ادا کر رہی ہیں۔ امن کے قیام کے لیے انسانیت کو اسلام کی تعلیمات اور سیرت طیبہ کی روشنی میں فساد سے بچنے کی ضرورت ہے۔

‎دنیا میں امن کے قیام کے لیے اہم اقدامات:
‎علاقائی امن و استحکام: مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل اور جنگ بندی۔
‎انسانیت اور برداشت: نفرت اور دہشت گردی کے بجائے محبت اور رواداری کو فروغ دینا۔
‎سیرت طیبہ کی روشنی: امن و سلامتی کو ایمان کا جزء سمجھتے ہوئے معاشرے سے فتنہ و فساد کا خاتمہ۔
‎معاشرتی اقدامات: کمیونٹی آرٹ پروجیکٹس اور امن کی یادگاروں تحریروں و تقریروں کے ذریعے امن کا شعور بیدار کرنا۔
‎عدل و انصاف: معاشرے میں ظلم کا خاتمہ اور عدل کو یقینی بنانا، جو امن کی اصل بنیاد ہے۔

‎سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امن کی تعلیم-
‎آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وَبَذْلُ السَّلاَمِ لِلْعَالَمِ(مسند البزار، حدیث نمبر 1396)یعنی دنیا میں امن پھیلائیں ۔
‎اسلام دین امن ہے۔ اور امن و سلامتی ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔

‎پاکستان خطے میں امن کی بحالی کے لیے سرگرم ہے اور ایران و امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔ امن کی بنیاد امن و آمان کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہی رکھی جا سکتی ہے۔

‎قاضی ایم اے خالد
‎چیف ایڈیٹر
‎دی ورلڈ پیس انٹرنیشنل

اپنے جگر کا خیال کیجئے

قاضی ایم اے خالد کے مطابق جگر کی صحت برقرار رکھنے اور اسے بیماریوں سے بچانے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اور مفید غذائیں نہایت اہم ہیں:
جگر کے لیے مفید غذائیں
لیچی کا استعمال: قاضی خالد کے مطابق لیچی پیاس بجھاتی ہے اور جگر کے امراض، خصوصاً جگر بڑھنے (Enlarged Liver) کی صورت میں بہت فائدہ مند ہے۔
پھل اور سبزیاں: جگر کی صفائی کے لیے تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھائیں تاکہ جسم سے زہریلے مادے خارج ہو سکیں۔
پانی کا زیادہ استعمال: جگر کو متحرک رکھنے اور خون کی صفائی کے لیے وافر مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔
احتیاطی تدابیر
مرغن غذاؤں سے پرہیز: زیادہ چکنائی والی اور تلی ہوئی اشیاء جگر پر بوجھ ڈالتی ہیں اور فیٹی لیور (Fatty Liver) کا سبب بن سکتی ہیں۔
ورزش: روزانہ ہلکی پھلکی ورزش جگر کے افعال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
بر وقت تشخیص: یرقان یا ہاتھ پاؤں کی جلن جیسی علامات ظاہر ہونے پر فوری توجہ دیں، کیونکہ یہ جگر کی
خرابی کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔
امراض جگر کے کامیاب ترین علاج کےلئے قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک رجوع فرمائیں
خالد خاندانی دواخانہ
32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان
03034125007

اپنے دل ❤️ کا خیال رکھیں

"اپنے دل کا خیال رکھیں” حکیم قاضی ایم اے خالد کی ایک مشہور تحریر  ہے جس میں وہ دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے طرزِ زندگی میں تبدیلیوں پر زور دیتے ہیں۔
ان کی ہدایات کے مطابق دل کو تندرست رکھنے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے:

  • باقاعدگی سے ورزش: روزانہ کی جسمانی سرگرمی دل کے پٹھوں کو مضبوط بناتی ہے۔
  • متوازن غذا: ایسی خوراک کا انتخاب کریں جو چکنائی سے پاک اور غذائیت سے بھرپور ہو۔
  • سگریٹ نوشی سے پرہیز: تمباکو نوشی ترک کرنا دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اہم ہے۔
  • کولیسٹرول پر قابو: خون میں کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھنا شریانوں کی صحت کے لیے لازمی ہے۔

روزہ ‘ جسمانی صحت اور جدید طبی تحقیقات

روزہ متعدد جسمانی و روحانی امراض کا بہترین علاج ہے
روزہ شوگر لیول‘ کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے اسٹریس اور ذہنی تناؤ ختم کرتا ہے
وہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں
افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیا کا بکثرت استعمال کئی امراض کا باعث بنتا ہے

حکیم قاضی ایم اے خالد
Twitter:qazimakhalid

خالقِ کائنات نے تین اقسام کی مخلوق پیدا کی ہیں۔نوری یعنی فرشتے‘ناری یعنی جن اور خاکی یعنی انسان جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔دراصل انسان روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی تخلیق اس طرح ممکن ہوئی کہ جسم کو مٹی سے بنایا گیا اور اس میں روح آسمان سے لا کر ڈالی گئی۔جسم کی ضروریات کا سامان یا اہتمام زمین سے کیا گیا کہ تمام تر اناج غلہ پھل اور پھول زمین سے اگائے جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے ہوتا رہا۔ہم سال کے گیارہ ماہ اپنی جسمانی ضرورتوں کو اس کائنات میں پیدا ہونے والی اشیاء سے پورا کرتے رہتے ہیں اور اپنے جسم کو تندرست و توانا رکھتے ہیں۔مگر روح کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے ہمیں پورے سال میں ایک مہینہ ہی میسر آتا ہے جو رمضان المبارک ہے۔

دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میںبغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کاطمع کئے تعمیلاًروزہ رکھتے ہیںتاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیںجسے دنیا بھر کے طبی ماہرین خصوصا ڈاکٹر مائیکل ‘ڈاکٹر جوزف ‘ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر‘ڈاکٹر ایم کلائیو‘ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ‘ڈاکٹر جیکب ‘ڈاکٹر ہنری ایڈورڈ‘ڈاکٹر برام جے ‘ڈاکٹر ایمرسن‘ ڈاکٹرخان یمر ٹ‘ ڈاکٹر ایڈورڈ نکلسن اور جدید سائنس نے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز سے تسلیم کیا ہے۔کچھ عرصہ قبل تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ روزہ کے طبی فوائد نظام ہضم تک ہی محدود ہیںلیکن جیسے جیسے سائنس اور علم طب نے ترقی کی‘دیگر بدن انسانی پر اس کے فوائد آشکار ہوتے چلے گئے اور محقق اس بات پر متفق ہوئے کہ روزہ تو ایک طبی معجزہ ہے۔
آیئے! اب جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں دیکھیں کہ روزہ انسانی جسم پر کس طرح اپنے مفید اثرات مرتب کرتا ہے۔

روزہ اور نظام ہضم :۔

نظام ہضم جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعضا پر مشتمل ہوتا ہے اہم اعضا جیسے منہ اور جبڑے میں لعابی غدود، زبان، گلا، مقوی نالی ) limentary Canal( یعنی گلے سے معدہ تک خوراک لے جانے والی نالی۔ معدہ، بارہ انگشتی آنت، جگر اور لبلبہ اور آنتوں سے مختلف حصے وغیرہ تمام اعضا اس نظام کا حصہ ہیں۔ جیسے ہی ہم کچھ کھانا شروع کرتے ہیں یا کھانے کا ارادہ ہی کرتے ہیں یہ نظام حرکت میں آجاتا ہے اور ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کردیتا ہے۔
ظاہر ہے کہ ہمارے موجودہ لائف اسٹائل سے یہ سارا نظام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دباؤ ‘ جنک فوڈزاور طرح طرح کے مضر صحت الم غلم کھانوں کی وجہ سے متاثر ہوجاتا ہے۔ روزہ اس سارے نظام ہضم پر ایک ماہ کا آرام طاری کر دیتا ہے اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر نے نظام ہضم میں حصہ لینے کے علاوہ پندرہ مزید عمل بھی سرانجام دینے ہوتے ہیں۔ روزے کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے۔ یہ روزے کے بغیر قطعی ناممکن ہے کیونکہ بے حد معمولی مقدار کی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصہ کے برابر بھی، اگر معدہ میں داخل ہوجائے تو پورا کا پورا نظام ہضم اپنا کام شروع کردیتا ہے اور جگر فورا مصروف عمل ہوجاتا ہے۔ جگر کے انتہائی مشکل کاموں میں ایک کام اس توازن کو برقرار رکھنا بھی ہے جو غیر ہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ خوراک کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے یا تو ہر لقمے کو سٹور میں رکھنا ہوتا ہے یا پھر خون کے ذریعے اس کے ہضم ہوکر تحلیل ہوجانے کے عمل کی نگرانی کرنا ہوتی ہے جبکہ روزے کے ذریعے جگر توانائی بخش کھانے کے سٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جگر اپنی توانائی خون میں گلوبلن( Globulin)جو جسم کے محفوظ رکھنے والے مدافعتی نظام کو تقویت دیتا ہے‘ کی پیداوار پر صرف کرتاہے۔

رمضان المبارک میں موٹاپے کے شکار افراد کا نارمل سحری اور افطاری کرنے کی صورت میں آٹھ سے دس پاؤنڈ وزن کم ہوسکتا ہے جبکہ روزہ رکھنے سے اضافی چربی بھی ختم ہوجاتی ہے ۔ وہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں تاکہ ان کا وزن کم ہوسکے۔یا د رہے کہ جدید میڈیکل سائنس کے مطابق وزن کم ہونے سے بے اولاد خواتین کو اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔روزے سے معدے کی رطوبتوں میں توازن آتا ہے ۔نظامِ ہضم کی رطوبت خارج کرنے کا عمل دماغ کے ساتھ وابستہ ہے۔عام حالت میں بھوک کے دوران یہ رطوبتیںزیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہیں جس سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔جبکہ روزے کی حالت میں دماغ سے رطوبت خارج کرنے کا پیغام نہیں بھیجا جاتا کیونکہ دماغ میں خلیوں میں یہ بات موجود ہوتی ہے کہ روزے کے دوران کھانا پینا منع ہے ۔یوں نظامِ ہضم درست کام کرتاہے۔روزہ نظام ہضم کے سب سے حساس حصے گلے اور غذائی نالی کو تقویت دیتا ہے اس کے اثر معدہ سے نکلنے والی رطوبتیں بہتر طور پر متوازن ہو جاتی ہیں جس سے تیزابیت (Acidity)جمع نہیں ہوتی اس کی پیداوار رک جاتی ہے ۔معدہ کے ریاحی دردوں میں کافی افاقہ ہوتا ہے قبض کی شکایت رفع ہو جاتی ہے اور پھر شام کو روزہ کھولنے کے بعد معدہ زیادہ کامیابی سے ہضم کا کام انجام دیتا ہے ۔روزہ آنتوں کو بھی آرام اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صحت مند رطوبت کے بننے اور معدہ کے پٹھوں کی حرکت سے ہوتا ہے۔ آنتوں کے شرائین کے غلاف کے نیچے محفوظ رکھنے والے نظام کا بنیادی عنصر موجود ہوتا ہے۔ جیسے انتڑیوں کا جال، روزے کے دوران ان کو نئی توانائی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح ہم ان تمام بیماریوں کے حملوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں جو ہضم کرنے والی نالیوں پر ہوسکتے ہیں۔

روزہ اور دوران خون :۔

روزوں کے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں خصوصاًدل کے لئے مفید چکنائی’’ ایچ ڈی ایل ‘‘کی سطح میں تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے دل اور شریانوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اسی طرح دو مزید چکنائیوں ’’ایل ڈی ایل‘‘اور ٹرائی گلیسر ائیڈ کی سطحیںبھی معمول پر آ جاتی ہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک ہمیں غذائی بے اعتدالیوں پر قابو پانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور اس میں روزوں کی وجہ سے چکنائیوں کے استحالے (میٹا بولزم )کی شرح بھی بہت بہتر ہو جاتی ہے۔یاد رہے کہ دوران رمضان چکنائی والی اشیا ء کا کثرت استعمال ان فوائد کو مفقود کر سکتا ہے۔
دن میں روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہوجاتی ہے یہ اثر دل کو انتہائی فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے کے دوران بڑھا ہوا خون کا دباؤہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے ۔شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے (Remnanuls)کا پوری طرح تحلیل نہ ہو سکنا ہے جبکہ دوسری طرف روزہ بطور خاص افطار کے وقت کے نزدیک خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرے تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزاجم نہیں پاتے جس کے نتیجے میں شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماری شریانوں کی دیواروں کی سختی (Arteriosclerosis)سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے ۔روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے اور خون کی پیدائش میں اضافہ ہو جاتا ہے اس کے نتیجے میں کمزور لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون کی کمی دورکر سکتے ہیں۔

روزہ اور نظام اعصاب :۔

روزہ کے دوران بعض لوگوں کو غصے اور چڑ چڑے پن کا مظاہرہ کرتے دیکھا گیا ہے مگر اس بات کو یہاں پر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان باتوں کا روزہ اور اعصاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس قسم کی صورت حال انانیت (egotistic)یا طبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے دوران روزہ ہمارے جسم کا اعصابی نظام بہت پر سکو ن اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے نیز عبادات کی بجا آواری سے حاصل شدہ تسکین ہماری تمام کدورتوں اور غصے کو دور کردیتی ہیں اس سلسلے میں زیادہ خشوع وخضوع اور اللہ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پریشانیاں بھی تحلیل ہو کر ختم ہو جاتی ہیں۔روزہ کے دوران چونکہ ہماری جنسی خواہشات علیحدہ ہوجاتی ہیں چنانچہ اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔
روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اس سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو کہ صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے اس کے علاوہ انسانی تحت الشعورجو رمضان کے دوران عبادات کی مہربانیوں کی بدولت صاف شفاف اور تسکین پذیر ہو جاتا ہے اعصابی نظام سے ہر قسم کے تناؤاور الجھن کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے ۔

روزہ اور انسانی خلیات :۔

روزے کا سب سے اہم اثر خلیوں کے درمیان اور خلیوں کے اندرونی سیال مادوں کے درمیان توازن کو قائم پذیر رکھنا ہے۔ چونکہ روزے کے دوران مختلف سیال مقدار میں کم ہوجاتے ہیں۔ خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں ایپی تھیلیل (Epithelial)سیل کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے بڑی حد تک آرام اور سکون ملتا ہے جس کی وجہ ان کی صحت مندی میں اضافہ ہوتا ہے۔ خلیاتیات کے علم کے نکتہ نظر سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ لعاب بنانے والے غدود گردن کے غدود تیموسیہ اور لبلبہ (Pencreas)کے غدود شدید بے چینی سے ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں تاکہ روزے کی برکت سے کچھ سستانے کا موقع حاصل کرسکیں اور مزید کام کرنے کے لئے اپنی توانائیوں کو جلا دے سکیں۔

روزہ اور غیر مسلموں کے انکشافات :۔

اسلام نے روزہ کو مومن کے لئے شفاقرار دیا اور جب سائنس نے اس پر تحقیق کی تو سائنسی ترقی چونک اٹھی اور اقرار کیا کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے ۔
٭…آکسفورڈیونیورسٹی کے مشہور پروفیسر مورپالڈ اپنا قصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولہ دیا ہے اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دیتا صرف روزے کا فارمولہ ہی دے دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اورکوئی نعمت نہ ہوتی میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہئے پھر میں نے روزے مسلمانو ں کے طرز پر رکھنا شروع کئے میں عرصہ دراز سے ورم معدہ (Stomach Inflammation)میں مبتلا تھا کچھ دنوں بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقعی ہو گئی ہے میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی کچھ عرصہ بعد ہی میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا اور ایک ماہ بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی ۔
٭…پوپ ایلف گال ہالینڈکے سب سے بڑے پادری گذرے ہیں روزے کے متعلق اپنے تجربات کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں میں نے اس طریقہ کار کے ذریعے جسمانی اور وزنی ہم آہنگی محسوس کی میرے مریض مسلسل مجھ پر زور دیتے ہیں کہ میں انہیں کچھ اور طریقہ بتاؤں لیکن میں نے یہ اصول وضع کر لیا ہے کہ ان میں وہ مریض جو لا علاج ہیں ان کو تین روز کے نہیں بلکہ ایک مہینہ تک روزے رکھوائے جائیں ۔میں نے شوگر‘دل کے امراض اور معدہ میں مبتلا مریضوں کو مستقل ایک مہینہ تک روزہ رکھوائے ۔شوگرکے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی ا ن کی شوگر کنٹرول ہو گئی ۔دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہوگیا سب سے زیادہ افاقہ معدہ کے مریضوں کو ہوا ۔
٭…فارما کولوجی کے ماہر ڈاکٹر لوتھر جیم نے روزے دار شخص کے معدے کی رطوبت لی اور پھر اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا اس میں انہوں نے محسوس کیا کہ وہ غذائی متعفن اجزا(food particles septic)جس سے معدہ تیزی سے امراض قبول کرتا ہے بالکل ختم ہو جاتے ہیں ڈاکٹر لوتھر کا کہنا ہے کہ روزہ جسم اور خاص طور معدے کے امراض میں صحت کی ضمانت ہے ۔
٭…مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ فاقہ اور روزے کا قائل تھا اس کا کہنا ہے کہ روزہ سے دماغی اور نفسیاتی امراض کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بیرونی دباؤکو قبول کرنے کی صلاحیت پالیتا ہے روزہ دار کو جسمانی کھینچاؤ اور ذہنی تناؤسے سامنا نہیں پڑتا۔
٭…جرمنی‘امریکہ ‘انگلینڈ کے ماہر ڈاکٹروںکی ایک ٹیم نے رمضان المبارک میں تمام مسلم ممالک کا دورہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رمضان المبارک میں چونکہ مسلمان نماز زیادہ پڑھتے ہیں جس سے پہلے وہ وضو کرتے ہیں اس سے ناک‘کان‘گلے کے امراض بہت کم ہو جاتے ہیں کھانا کم کھاتے ہیں جس سے معدہ وجگر کے امراض کم ہو جاتے ہیں چونکہ مسلمان دن بھر بھوکا رہتا ہے اس لئے وہ اعصاب اور دل کے امراض میں بھی کم مبتلا ہوتا ہے ۔

Hakeem Qazi M.A Khalid

غرضیکہ روزہ انسانی صحت کیلئے انتہائی فائدہ مند ہے۔روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے اسٹریس و اعصابی اور ذہنی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور جسم کی تطہیر ہوجاتی ہے۔روزہ انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے روزہ رکھنے سے دماغی خلیات بھی فاضل مادوں سے نجات پاتے ہیںجس سے نہ صرف نفسیاتی و روحانی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ اس سے دماغی صلاحیتوں کو جلامل کر انسانی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیںروزہ موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے خاص طور پر نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید بیسیوں امراض کا علاج بھی ہے ۔

روزہ اور احتیاطی تدابیر:۔

یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مندرجہ بالا فوائد تبھی ممکن ہوسکتے ہیں جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیا ء مثلا ًسموسے ‘پکوڑے ‘کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دستر خوان پر دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے کی بجائے افطار کسی پھل کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیںپڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد سے یقیناًہم روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔٭٭

نیچرل ‘ہربل اینٹی بائیوٹکس

ایلوپیتھک طریق علاج دنیا کے سب سے بڑے مسئلہ صحت کا شکار ہو چکا ہے
اینٹی بایوٹیکس سے پیدا شدہ سپر بگس لاکھوں ہلاکتوں کا باعث بن سکتے ہیں
جدید طبی تحقیقات کے مطابق نیچرل ‘ہربل اینٹی بایوٹکس امراض کے خلاف قدرتی ڈھال ہیں
نیچرل ‘ہربل اینٹی بائیوٹکس
سر الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928 میں سب سے پہلامصنوعی اینٹی بایوٹک دریافت کیا

حکیم قاضی ایم اے خالد

سر الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928 میں سب سے پہلا مصنوعی اینٹی بیکٹریل دریافت کیا’ پھپھوندی سے نکلی پینسلین متعدد امراض کیلئے شفا کا باعث بنی ۔وقت گزرنے کے ساتھ متعدد ایلوپیتھک فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی ریسرچ سے لاتعداداینٹی بائیوٹک دریافت کئے گئے لیکن اب جبکہ ان اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت رکھنے والی” سپربگ” امراض سامنے آ رہی ہیں تو ایلوپیتھک طریق علاج یہاں بے چارگی کے عالم میں ہے اس حوالہ سے پاکستان میںسپربگ ٹائیفائڈ اس کی واضح مثال ہے جس پر کوئی بھی ایلو پیتھک اینٹی بایوٹکس ادویات موثر ثابت نہیں ہو رہیںاور ابتک متعدد اموات ہو چکی ہیں۔
لیکن جو لوگ بیکٹیریا سے لڑنے کیلئے قدرتی’ہربل اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کرتے ہیں وہ سپر بگ امراض سے محفوظ رہتے ہیں ۔بعض حالیہ طبی تحقیقات کے مطابق ہربل اینٹی بائیوٹیکس کو اگر روز مرہ خوراک میں شامل کیا جائے توامراض کے خلاف یہ ایک قدرتی ڈھال ثابت ہوتے ہیں ۔
لہسن:۔
دنیا بھر میں کئی ہزارسال قبل سے آج تک لہسن کو مختلف امراض کے علاج و معالجہ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔جدید تحقیق اس امر کی تصدیق کر رہی ہے کہ لہسن میں ایسے اینٹی بائیوٹک اور اینٹی وائرل قدرتی طور پر شامل ہیں جو نہ صرف دشمن بیکٹیریا کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
ادرک:۔
قدرتی اینٹی بائیوٹک سے بھرپور ادرک کا استعمال تاریخی طور پر سانس لینے کے عمل میں انفیکشن کے دوران کیا جاتا ہے۔انفلواینزامیں موثرہے ۔ادرک ایک بہترین قدرتی اینٹی وائرل اور اینٹی بیکٹیریل ہے اس کے علاوہ یہ منہ کی مختلف بیماریوں کے لئے بھی نہایت فائدہ مند ہے۔ مثلا منہ سے آنے والی ناگوار بدبو دور کرنے کیلئے یہ بہت مفید ہے۔
ہلدی:۔
امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق ہلدی میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اوراینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ کئی اقسام کی سوزش اور جینیاتی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔یہ ایک قدرتی اینٹی سیپٹک ہے جو کہ جراثیم مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے اگر کسی کو چوٹ لگ جائے تو اکثر ہلدی کا لیپ لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں ہلدی ڈال کر پینے سے جسم کی قوت مدافعت بڑھتی ہے اور ہلدی سے متاثرہ جلد ٹھیک ہوجاتی ہے۔
شہد:۔
دنیا بھر میں اینٹی بیکٹریل علاج کے لئے شہد کا استعمال اس وقت سے کیا جا رہا ہے جب مارکیٹ میں مصنوعی اینٹی بائیوٹک دستیاب نہیں ہوتے تھے۔شہد کے اندر موجود اینٹی بائیوٹک معدے کے السراور جگر سمیت متعدد بیماریوں کے لئے مفید ہے۔بیرونی زخموں اورانفیکشنز میں بھی شہد موثرہے۔
لیموں:۔
آج تک متعدد تحقیقات لیموں میں اینٹی بائیوٹک کی موجودگی کو ثابت کر چکی ہیں۔برٹش جرنل آف فارماکالوجی کے مطابق لیموں کا استعمال متعدد بیماریوں کو پیدائش سے قبل ہی مار دیتا ہے۔ لیموں ایک ایسا قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے جو علاج کے دوران اندرونی و بیرونی دونوں سطحوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انناس:۔
آسٹریلیا کے ماہرین نے ڈائریا کے علاج میں انناس کو کامیابی سے استعمال کیا ہے جس سے اس امید کی راہیں کھلی ہیں کہ انناس سے انسانی بیکٹیریا کو شکست دی جاسکتی ہے۔میلبورن کی لاٹروبے یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق ایلوپیتھک اینٹی بایوٹکس کا اندھا دھند استعمال ان بیکٹیریا کو ہرطرح کی دوائیوں سے مزاحم بنارہے ہیں اورایلوپیتھک ڈاکٹر بھی بے دریغ اینٹی بایوٹکس تجویز کررہے ہیں اس طرح بیکٹیریا بدل کر سپر بگس بنتے جارہے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ پوری دنیا میں جراثیم بہت چالاکی سے خود کو بدل کرایلوپیتھک اینٹی بایوٹکس ادویات کو بے اثر کررہے لیکن انناس میں موجود اہم اجزا اس جنگ میں فتح دلاسکتے ہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والے ایک سالہ سروے میں کہا گیا ہے کہ 2050تک ایلوپیتھک اینٹی بایوٹک ادویات سے مزاحمت والے جراثیم اور بیکٹیریا سے مرنے والوں کی تعداد سالانہ ایک کروڑ سے تجاوز کرسکتی ہے۔اس لڑائی کو جیتنے کیلئے ہمیںقدرتی طریق ہائے علاج کے زیرتحت ایسے قدرتی اجزا دریافت کرنے ہیں جو ان ڈھیٹ جراثیم (سپربگس )کے مقابلے میں فتح دلاسکیں۔ماہرین کے مطابق انناس میں پائے جانے والے 3اینزائم سے جانوروں کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو ختم کرکے ڈائریا کا علاج کیا گیا ہے اور اس طرح ڈائریا سے علاج کی نئی راہ کھل گئی ہے۔ ان 3اینزائم کو مجموعی طور پر” بروملین ”کہا گیا ہے۔٭٭

انسولین ذیابیطس کا علاج نہیں

انسولین ذیابیطس کاا علاج نہیں

حکیم قاضی ایم اے خالد

انسولین ذیابیطس کا علاج نہیں فقط ایک علامتی تدبیر ہے۔ڈاکٹر جے -ای -آر میکڈوناغ رسالہ نوعیت امراض میں یوں وضاحت کرتے ہیں کہ ذیابیطس مرض نہیں بلکہ علامت ہے انسولین نشاستے کو کسی طور تحلیل نہیں کرتی لہذا یہ مرض ذیابیطس کا علاج نہیں۔ سوائے اس کےانسولین کا اور کوئی فائدہ نہیں کہ یہ ذیابیطس کی علامتوں میں کسی حد تک تخفیف کر دیتی ہے۔اگر ذیابیطس کا بنیادی سبب تلاش کرلیا جائے جو چنداں مشکل نہیں تو انسولین کے استعمال کی ضرورت ہی نہ رہے۔

انسولین ذیابیطس کو صحیح نہیں کرتی بلکہ صرف اسے "مینیج” کرتی ہے اور یہ صرف غذائی پرہیز اور نباتات کے استعمال سے بھی ممکن ہے۔وطن عزیز میں ذیابیطس کے بڑھنے کی وجوہات میں سرفہرست یہ ہے کہ ہم نے اپنے روایتی طرز زندگی کو چھوڑ کر مغربی طرز زندگی کو اپنا لیا ہے۔آرام طلبی میں اضافہ’جسمانی مشقت میں کمی ‘کھیل کود ‘سیراور ورزش کی بجائے ٹی وی’موبائل فون اور کمپیوٹرکا بکثرت استعمال’کولا مشروبات’برگرز’پیزا’ چپس سمیت دیگر فاسٹ فوڈز و مرغن غذاؤں کا انتہائی استعمال شوگر کے بنیادی اسباب ہیں اس کے علاوہ موٹاپا اور جینیاتی ساخت بھی ڈایابیٹیز کا باعث بنتی ہے۔

جدید میڈیکل سائنس ذیابیطس کے حتمی علاج سے عاری ہے اور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے۔ تاہم شوگر کنٹرول کر کے نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ اسلامک یونانی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کی متعدد بے ضررادویات وجڑی بوٹیاں موجود ہیں اورصدیوں سے مستعمل ہیں جبکہ حال ہی میں کنیڈا’امریکہ’جرمنی’جاپان اور پاکستان میں دارچینی ‘کلونجی ‘کاسنی ‘میتھرے’ادرک ‘کریلا’جامن’سفید موصلی اور دیگر ہربز پرکئے گئے متعدد مطالعوں اور جدید تحقیقات نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔

وضو کرونا وائرس سمیت متعدد امراض سے بچاؤ میں مفید ہے

ہمیں کم ازکم پانچ بار وضو کا اہتمام اور اپنے گھروں کو مساجد بنا کر اس وبا کے خاتمہ کیلئے اہم کردار ادا کرنا چاہئے

وضو اور جدید طبی تحقیقات

برطانوی تحقیق کے مطابق وضو کی وجہ سے کرونا وائرس مسلمانوں میں کم پھیل رہا ہے

تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد

وضو سے کرونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے اگر ہم اپنی زندگی کودین اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق گزاریں تو کرونا سمیت دنیا کے ہر وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے جب ہم اپنی زندگی میں صفائی لے آئیں گے تو آدھی سے زیادہ بیماریاںبغیر کسی علاج کے ہی ختم ہو جائیں گی۔ جدیدطبی تحقیقات کے مطابق اگر کوئی دن میں پانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔
کالج آف میڈیسن ‘بصرہ یونیورسٹی عراق کے پروفیسر سلام این اسفار اپنے مقالے
ISLAMIC PRAYERS: A SPORT FOR BODY AS WELL AS SOUL
میں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میںتحریر کرتے ہیں کہ جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

وضو سے کرونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے اگر ہم اپنی زندگی کو دین اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق گزاریں تو کرونا سمیت دنیا کے ہر وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔

برطانیہ کی نیو کیسل یونیورسٹی کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پانچ وقت نماز سے پہلے وضو کرنے سے برطانوی مسلمان کوویڈ۔19وائرس سے زیادہ محفوظ ہے۔ وضو کی وجہ سے کرونا وائرس ان میں بہت ہی کم پھیل رہا ہے،کرونا وائرس کے کم پھیلاؤ کی وجہ وضو کو قرار دے دیا گیا۔ نیو کیسل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر رچرڈ ویبر اور لیبر پارٹی کے سابق سیاستدان ٹریور فلپس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کو COVID-19کا کم خطرہ ہیں کیونکہ وہ روزانہ پانچ بارخود کو صاف کرتے ہیں۔ نماز سے پہلے وضو اور بار بار ہاتھ دھونے سے بہت سارے مسلمانوں کو اس وائرس کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر وسطی لندن میں ٹاور ہیملیٹس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں بڑی تعداد میں مسلمان آبادی ہے اور اس کے اردگرد وائرس کے ہاٹ سپاٹ ہیں لیکن مسلمان وائرس سے محفوظ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ کے بہت سے علاقوں میں مسلمان اس وائرس سے کم متاثر ہوئے ہیں۔

وضو حفظانِ صحت کے زریں اصولوں میں سے ہے۔ یہ روز مرہ زندگی میں جراثیم کے خلاف ایک بہت بڑی ڈھال ہے۔ بہت سی بیماریاں صرف جراثیموں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہ جراثیم ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ ہوا، زمین اور ہمارے اِستعمال کی ہر چیز پر یہ موذی مسلط ہیں۔ جسمِ انسانی کی حیثیت ایک قلعے کی سی ہے۔ اللہ تعالی نے ہماری جلد کی ساخت کچھ ایسی تدبیر سے بنائی ہے کہ جراثیم اس میں سے ہمارے بدن میں داخل نہیں ہو سکتے البتہ جلد پر ہو جانے والے زخم اور منہ اور ناک کے سوراخ ہر وقت جراثیم کی زد میں ہیں۔ اللہ رب العزت نے وضو کے ذریعے نہ صرف ان سوراخوں کو بلکہ اپنے جسم کے ہر حصے کو جو عام طور پر کپڑوں میں ڈھکا ہوا نہیں ہوتا اور آسانی سے جراثیم کی آماجگاہ بن سکتا ہے، انہیں وضو کے ذریعے وقتا فوقتا دھوتے رہنے کا حکم فرمایا۔ انسانی جسم میں ناک اور منہ ایسے اعضا ہیں جن کے ذریعے جراثیم سانس اور کھانے کے ساتھ آسانی سے اِنسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، لہذا گلے کی صفائی کے لیے غرارہ کرنے کا حکم دیا اور ناک کو اندر ہڈی تک گیلا کرنے کا حکم دیا۔ بعض اوقات جراثیم ناک میں داخل ہو کر اندر کے بالوں سے چمٹ جاتے ہیں اور اگر دن میں وقتا فوقتا اسے دھونے کا عمل نہ ہو تو ہم صاف ہوا سے بھرپور سانس بھی نہیں لے سکتے۔ اس کے بعد چہرے کو تین بار دھونے کی تلقین فرمائی ہے تاکہ ٹھنڈا پانی مسلسل آنکھوں پر پڑتا رہے اور آنکھیں جملہ امراض سے محفوظ رہیں۔ اِسی طرح بازو اور پاؤں دھونے میں بھی کئی طبی فوائد پنہاں ہیں۔ وضو ہمارے بے شمار امراض کا ازخود علاج کر دیتا ہے جن کے پیدا ہونے کا ہمیں اِحساس تک نہیں ہوتا۔ طہارت کے باب میں طبِ جدید جن تصورات کو واضح کرتی ہے اِسلام نے انہیں عملا تصورِ طہارت میں سمو دیا ہے۔

موجودہ وباء کے تناظر میں وضو کا اہتمام ہمیشہ گھر میں ہی کرنا چاہئے اور اصل اسلامی تعلیمات بھی یہی ہیں بیشتر مساجد کے وضو خانوں میں صفائی کا مکمل بندوبست نہیں ہوتا اور وضو کے استعمال میں آنے والی پانی والی ٹینکیاں عرصہ دراز سے حفظ صحت کے اصولوں کے مطابق صاف نہیں کی جاتیںایسے آلودہ پانی سے وضو کرنا کئی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔
کروناوائرس کے خلاف حکومت جو اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنالازم ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی اس وبا کے خاتمہ کیلئے عوام کے تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔دنیا بھر کی حکومتوںنے جو باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں۔وبا کے خلاف” قرنطینہ ”بھی علاج ہے جو دنیا کو ایک ہزار سال پہلے الشیخ الرئیس حکیم بو علی سینا نے عطا کیا ۔حکیم بو علی سینا کا پورا نام ”علی الحسین بن عبداللہ بن الحسن بن علی بن سینا”تھا۔ مغرب میں انہیں Avicenna کہاجاتا ہے۔ ایلوپیتھک ڈاکٹرز جو حلف لیتے ہیں وہ ”ایویسینا اوتھ” کہلاتا ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سب کچھ بند بھی ہو جائے تو توبہ کا دروازہ یقینا کھلا رہتاہے۔ہمیں کم ازکم پانچ بار وضو کا
اہتمام اور اپنے گھروں کو مساجد بنا کر اس وبا کے خاتمہ کیلئے اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں