وقت نہ ہونے کا بہانہ مت کریں

وقت کی کمی اکثر محض ترجیحات کا مسئلہ ہوتا ہے نہ کہ وقت کی حقیقی قلت۔ جب ہم کسی کام کو اپنی زندگی میں اہمیت دیتے ہیں، تو ہم اس کے لیے وقت نکال ہی لیتے ہیں۔
وقت کے بہتر استعمال کے حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

* ترجیحات کا تعین: دن بھر کے کاموں میں سے ان کاموں کو پہلے کریں جو سب سے زیادہ اہم ہیں۔
* بامقصد استعمال: ماضی میں لوگ محدود وسائل کے باوجود اپنے وقت کا بامقصد استعمال کرتے تھے اور کبھی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے لیے "وقت نہیں ہے” کا بہانہ نہیں بناتے تھے۔
* اہداف کی ترتیب: اپنے روزمرہ کے اہداف (Goals) مقرر کریں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کا وقت کہاں خرچ ہو رہا ہے ۔
* سستی سے گریز: اکثر سستی اور کام کو کل پر ٹالنے کی عادت ہمیں یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔

یاد رکھیں، ہر انسان کے پاس دن میں وہی 24 گھنٹے ہوتے ہیں، فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ کون ان کا کتنا بہتر استعمال کرتا ہے۔

قاضی ایم اے خالد

دور حاضر کی صحافت

دور حاضر میں صحافت، ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے امتزاج سے مکمل طور پر بدل چکی ہے، جو فوری خبر رسانی، عوامی رائے سازی اور ریاست کے چوتھے ستون کے طور پر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن نے جہاں خبروں تک رسائی آسان بنائی ہے، وہیں فیک نیوز اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ جیسے چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔جدید ییلو جرنلزم ماضی کی زرد صحافت سے ہزاروں گنا خطرناک ہے۔کسی بھی شعبے کے زیرو کو چشم زدن میں ہیرو اور ہیرو کو زیرو بنانے میں صرف چند لمحے درکار ہیں۔

ٹیکنالوجی کے انقلاب نے صحافت کے روایتی طریقوں کو بدل کر اسے انتہائی تیز تر اور ہمہ گیر بنا دیا ہے۔


دورِ حاضر میں صحافت کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

* ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کا غلبہ: اب خبریں اخبار کا انتظار نہیں کرتیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے لمحوں میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کے پاس اسمارٹ فون ہے، وہ ‘سٹیزن جرنلسٹ’ بن چکا ہے۔
* تحقیق اور حقائق کی جانچ: جدید صحافت صرف خبر دینا نہیں بلکہ اس کے پیچھے چھپے حقائق کی تحقیق (Investigative Journalism) کا بھی نام ہے۔وہ تحقیقی کام اب چند سیکنڈز میں ممکن ہیں جو پہلے سالہاسال میں ممکن العمل ہوتے تھے۔

تاہم اس جدیدیت کے منفی پہلو کی وجہ سے آج کے دور میں فیک نیوز (Fake News) کا سدباب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس کے لیے ذمہ دارانہ صحافت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
* رائے عامہ کی تشکیل: صحافت عوام کے جذبات کی ترجمان اور معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتی ہے بلکہ عوامی شعور بیدار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔اب چونکہ رائے عامہ کی تشکیل لمحوں کا کھیل ہے۔اس لئے موجودہ صحافت کو کڑی سنسرشپ سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔
* جدید اصناف: دورِ جدید میں کالم نگاری، فیچر نویسی اور اداریہ نگاری کے ساتھ ساتھ اب پوڈ کاسٹ، بلاگز (Blogs) اور وی لاگز (Vlogs) بھی صحافت کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
* آزادی اور ذمہ داری: جہاں جدید دور نے صحافیوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دی ہے، وہیں ان پر یہ بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے کہ وہ پیشہ ورانہ اور سماجی اقدار کا پاس رکھیں۔

قاضی ایم اے خالد

قلم مزدور

یکم مئی سے تین مئی تک۔۔۔۔۔۔

قلم مزدور” یا "قلم کا مزدور” کا تصور اردو ادب اور صحافت میں بہت گہرا ہے، جس سے مراد وہ ادیب، صحافی یا لکھاری ہے جو اپنے قلم کو رزق حلال کا ذریعہ بناتا ہے۔ یہ اصطلاح اکثر ان تخلیق کاروں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو لفظوں کی دنیا میں محنت مشقت کرتے ہیں اور اپنے خیالات کے ذریعے معاشرے کی تصویر کشی کرتے ہوئے مثبت رائے عامہ استوار کرتے ہیں۔

اس موضوع کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

قلم مزدور: تعریف اور کردار

  • لفظوں کا کاریگر: جس طرح ایک مزدور اینٹ گارا اٹھاتا ہے، قلم مزدور لفظوں، جملوں اور خیالات کو ترتیب دے کر مضمون، اسٹوری یا رپورٹ مرتب کرتا ہے۔
  • سچائی کی آواز: قلم مزدور کا فرض ہے کہ وہ معاشرے کے مسائل، استحصال اور سچائی کو بے نقاب کرے۔
  • ذمہ داری: قلم کا مزدور صرف لکھتا نہیں، بلکہ اپنی فکر اور عمل سے معاشرے میں بہتری لانے کی کوشش کرتا ہے۔ 

چیلنجز اور مشکلات

  • معاشی استحصال: اکثر اوقات قلم مزدوروں کو ان کی محنت کا مناسب صلہ نہیں ملتا اور جن طبقات کے خلاف وہ لکھتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی طرح انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔
  • آزادی اظہار: سچ لکھنے پر قلم کاروں کو دباؤ یا سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  • خوشامد کی سیاست: بعض اوقات قلم کار ذاتی مفاد کے لیے سچائی سے انحراف کرتے ہیں، جسے منفی "قلم مزدوری” یا لفافہ جرنلزم کہا جاتا ہے۔ 
  • محنت و مشقت کا کام: قلم مزدور کی اصطلاح اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لکھنا بھی ایک محنت طلب کام ہے ایک ایک جملے و لفظ کےلئے بھی بعض اوقات بہت مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔ 


قلم مزدور یا سچا صحافی معاشرے کا وہ حساس طبقہ ہے جو اپنی تحریروں کے ذریعے سوچ کو بیدار کرتا ہے یعنی رائے عامہ استوار کرتا ہے۔ ایک سچا قلم مزدور حالات کی سنگینی کے باوجود قلم کی حرمت کو برقرار رکھتا ہے۔ 

قاضی ایم اے خالد

پاک چین دوستی زندہ باد

بے شک، پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے! 🇵🇰🤝🇨🇳

پاکستان اور چین کے تعلقات پون صدی پر محیط ہیں، جو نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی اور دفاعی لحاظ سے بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • ہر موسم کی دوستی: دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، چاہے وہ جنگ ہو یا قدرتی آفات یا حالت امن۔
  • سی پیک (CPEC): پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اس دوستی کا ایک شاہکار ہے، جسے خطے کے لیے "گیم چینجر” قرار دیا جاتا ہے۔
  • عوامی سطح پر محبت: دونوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، اور یہ نعرہ "پاک چین دوستی زندہ باد” ہر پاکستانی کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔
  • امن اور ترقی: چین نے ہمیشہ خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں خاص طور پر امن عالم کی حالیہ کاوشوں کی حمایت کی ہے۔

چائنہ کی اس دلی محبت اور جذبے کو سلام!

قاضی ایم اے خالد

ارتکاز توجہ، ایک ذہنی قوت

ارتکاز توجہ (Concentration) دراصل وہ ذہنی قوت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات کے بکھراؤ کو روک کر تمام تر توجہ کسی ایک نقطے، کام یا مقصد پر مرکوز کر دیتا ہے۔ یہ کامیابی کی بنیاد ہے کیونکہ منتشر ذہن کبھی بھی غیر معمولی نتائج حاصل نہیں کر سکتا۔

ارتکاز توجہ کی اہمیت

  • کارکردگی میں اضافہ: جب ذہن یکسو ہوتا ہے تو کام کم وقت میں اور زیادہ بہتر طریقے سے مکمل ہوتا ہے۔
  • فیصلہ سازی کی قوت: یکسوئی انسان کو الجھنوں سے نکال کر واضح سوچ فراہم کرتی ہے، جس سے درست فیصلے کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
  • ذہنی سکون: خیالات کا انتشار پریشانی اور تناؤ پیدا کرتا ہے، جبکہ یکسوئی سے ذہن کو اطمینان اور سکون ملتا ہے۔

ارتکاز توجہ حاصل کرنے کے طریقے

ذہنی یکسوئی کوئی پیدائشی تحفہ نہیں بلکہ ایک ایسی مہارت ہے جسے مشق کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے:

  1. مراقبہ (Meditation): روزانہ 10 سے 15 منٹ خاموشی سے بیٹھ کر اپنی توجہ سانس یا کسی ایک نقطے پر رکھنا یکسوئی بڑھانے کا سب سے آزمودہ طریقہ ہے۔
  2. منظم زندگی: غیر منظم روٹین اور بکھرے ہوئے کام ذہنی انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ اپنے کاموں کی فہرست بنانا اور ایک وقت میں ایک کام کرنا یکسوئی میں مدد دیتا ہے۔
  3. عبادت اور نماز: نماز بذاتِ خود ارتکاز اور یکسوئی کی ایک بہترین مشق ہے جہاں انسان اپنے تمام خیالات کو ایک مرکز پر جمع کرتا ہے۔
  4. مناسب نیند اور غذا: نیند کی کمی یکسوئی کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ ماہرین کے مطابق مکھن، گھی اور اچھی غذا بھی یادداشت اور قوتِ یکسوئی کے لیے مفید ہے۔

غرض کہ محویت اور شوق جتنا زیادہ ہوگا، ارتکاز توجہ (یکسوئی) اتنی ہی گہرائی سے حاصل ہوگی۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

دنیا بھر میں پائیدار امن کی ضروریات

دنیا بھر میں پائیدار امن کے قیام اور بقا کے لیے درج ذیل بنیادی عوامل ناگزیر ہیں:

بین المذاہب رواداری اور ہم آہنگی: دنیا میں امن کے لیے مختلف مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام اور بین المذاھب رواداری کا ہونا بہت ضروری ہے۔ مکالمے کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کرنا اور ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرنا بقائے امن کی پہلی سیڑھی ہے۔

سماجی انصاف اور مساوات: امن صرف جنگ کی غیر موجودگی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں شہریوں کو جان، مال اور عزت کا تحفظ حاصل ہو۔ جب معاشرے میں ناانصافی اور محرومی ختم ہوتی ہے تو شدت پسندی کے امکانات خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔

معاشی استحکام: امن اور معیشت کا گہرا تعلق ہے۔ غربت اور معاشی بدحالی اکثر بدامنی اور جرائم کو جنم دیتی ہے۔ امن اور معیشت ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے، اور معاشی طور پر مستحکم معاشرہ ہی پرامن رہ سکتا ہے۔

برداشت اور تحمل کا فروغ: معاشرے میں اخوت، رواداری اور برداشت کے جذبات کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ کوئی دشمن گروہ عوامی اتحاد کو پارہ پارہ نہ کر سکے۔

بین الاقوامی قوانین کی پاسداری: عالمی سطح پر امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک بین الاقوامی معاہدوں اور انسانی حقوق کا احترام کریں تاکہ تنازعات کو جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکے۔

تعلیم اور شعور: لوگوں کو مستقل قیام امن کے عملی طریقوں سے آگاہ کرنا اور تعلیمی نصاب میں امن و آشتی کے اسباق شامل کرنا طویل مدتی امن کے لیے ناگزیر ہے۔

قاضی ایم اے خالد

امن عالم میں پاکستان کا کردار

‎پاکستان عالمی امن کے قیام میں ایک ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جس کا اعتراف اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھی کر رہی  ہے۔

‎امن عالم میں پاکستان کے کردار کے
‎اہم پہلو اور حالیہ پیش رفت:

‎اقوام متحدہ کے امن مشنز: پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز (Peacekeeping Operations) میں سب سے زیادہ دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان نے 30 ستمبر 1947ء کو اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کی اور 1960ء میں کانگو میں اپنا پہلا امن مشن دستہ بھیجا تھا۔

‎ دہشت گردی کے خلاف جنگ: دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی قربانیاں اور کوششیں عالمی امن کے استحکام میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاک فوج اور سیکیورٹی ادارے خطے میں استحکام کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

‎ انسانی حقوق کی پاسداری: پاکستان بین الاقوامی سطح پر بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ 

‎امن عالم کےلئے حالیہ ثالثی کا کردار: پاکستان عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک "امن کے پل” کے طور پر ابھر رہا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگیوں میں پاکستان نے ایران ، امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور ثالثی کے ذریعے جنگ بندی اور امن کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔

‎پاکستان کی ان سفارتی کامیابیوں اور قیامِ امن کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جس سے عالمی برادری میں وطن عزیز کے وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

قاضی ایم اے خالد
‎چیف ایڈیٹر
‎دی ورلڈ پیس انٹرنیشنل
‎03034125007

ڈپریشن کا گھریلو علاج


ڈپریشن ایک طبی حالت ہے جس کے لیے طرزِ زندگی میں تبدیلیوں اور بعض صورتوں میں پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھریلو سطح پر درج ذیل اقدامات اس کی شدت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں:

طرزِ زندگی میں تبدیلیاں

  • باقاعدہ ورزش: ورزش جسم میں ایسے کیمیکلز (اینڈورفنز) خارج کرتی ہے جو موڈ کو بہتر بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق روزانہ چہل قدمی یا مراقبہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے
  • مناسب نیند: آرام دہ اور بھرپور نیند (تقریباً 7 سے 8 گھنٹے) دماغ کو بحال کرنے اور تناؤ کم کرنے کے لیے ضروری ہے
  • منفی خیالات سے بچاؤ: منفی نمونوں اور احساسات کی شناخت کر کے ان پر قابو پانے کی کوشش کریں

غذائی تدابیر

  • متوازن غذا: ایسی غذائیں استعمال کریں جو وٹامنز، معدنیات اور فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوں
  • کیفین اور الکحل سے پرہیز: بہت زیادہ چائے، کافی یا نشہ آور اشیاء پریشانی اور بے چینی کو بڑھا سکتی ہیں ۔
  • ہربل چائے: قہوہ یا سبز چائے پینے سے اعصاب کو سکون ملتا ہے۔
  • الائچی کا استعمال: ناشتے کے بعد دو الائچیاں کھانا بھی بعض گھریلو ٹوٹکوں میں مفید بتایا جاتا ہے

سماجی اور نفسیاتی مدد

  • موسیقی اور مشاغل: پسندیدہ موسیقی سننا یا کسی مثبت سرگرمی میں مشغول ہونا ذہنی حالت کو بہتر بناتا ہے
  • دوسروں سے بات چیت: اپنے جذبات کا اظہار کسی معتمد دوست یا گھر کے فرد سے کریں۔
  • اگر ڈپریشن کی علامات شدید ہوں یا دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہیں، تو حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک ان کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان رجوع فرمائیں
    سیل نمبر 03034125007

ہائی بلڈ پریشر کا گھریلو علاج

ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے طرز زندگی میں تبدیلی اور چند مخصوص گھریلو غذائیں انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

گھریلو نسخے

  • لہسن کا استعمال: روزانہ صبح نہار منہ کچے لہسن کی ایک سے دو جوئے (cloves) پانی کے ساتھ نگلنے سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
  • نمک میں کمی: کھانے میں نمک (سوڈیم) کا استعمال کم سے کم کریں، کیونکہ نمک جسم میں پانی کو روکتا ہے جس سے خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
  • پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں: کیلے، چقندر، اور سبز پتوں والی سبزیاں (جیسے پالک) اپنی غذا میں شامل کریں، کیونکہ یہ نمک کے اثرات کو کم کرتی ہیں۔
  • بیریز اور دہی: بیریز (اسٹرابیری، بلیو بیری) اور کم چکنائی والا دہی بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔

طرز زندگی میں تبدیلیاں

  • باقاعدہ ورزش: روزانہ کم از کم 20 سے 30 منٹ کی واک، جاگنگ یا سائیکل چلانے سے بلڈ پریشر کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے۔
  • وزن میں کمی: جسمانی وزن میں کمی بلڈ پریشر کو قابو کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔
  • ذہنی تناؤ سے گریز: اسٹریس کم کرنے کے لیے گہرے سانس لیں اور پرسکون نیند لیں۔
  • سگریٹ نوشی سے پرہیز: تمباکو نوشی خون کی نالیوں کو تنگ کرتی ہے، اس لیے اس سے گریز ضروری ہے۔

اگر آپ کا بلڈ پریشر مستقل ہائی رہتا ہے تو حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک ان کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے رجوع فرمائیں۔ سیل نمبر 03034125007

بواسیر کا یونانی اور دیسی علاج

بواسیر (Piles) کا یونانی اور دیسی علاج قبض کو دور کرنے اور سوزش کو کم کرنے پر مرکوز ہوتا ہے۔ یونانی طب میں اس کے لیے مختلف مفرد اور مرکب ادویات استعمال کی جاتی ہیں جو علامات کے مطابق تجویز کی جاتی ہیں۔

‎ مشہور یونانی ادویات (مرکبات)
‎یونانی دواخانوں پر دستیاب چند عام استعمال ہونے والی ادویات مندرجہ ذیل ہیں:

‎* حبِ مقل (Hab-e-Muqil): یہ قبض کو دور کرنے اور بواسیر کے درد میں آرام کے لیے مفید ہے۔
‎* قرصِ بواسیر (Qurs-e-Bawaseer): بادی اور خونی دونوں طرح کی بواسیر میں مفید ہے۔
‎* اطریفلِ مقل (Itrifal-e-Muqil): یہ دائمی قبض کو ختم کرنے اور بواسیر کے مسوں کی سوجن کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
‎* حبِ بواسیر خونی: مخصوص طور پر خون روکنے کے لیے دی جاتی ہے۔

‎ گھریلو اور یونانی نسخے

‎* انجیر کا استعمال: رات بھر پانی میں بھگوئی ہوئی 3 عدد انجیر نہار منہ کھانا قبض اور بواسیر کا بہترین علاج مانا جاتا ہے۔
‎* تارا میرا کے بیج: بادی بواسیر کے لیے تارا میرا کے بیجوں کا سفوف دہی کے ساتھ استعمال کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔
‎* ایلو ویرا (گھیکوار): ایلو ویرا کا گودا متاثرہ جگہ پر لگانے سے جلن اور سوزش میں کمی آتی ہے۔
‎* نیم کا تیل: مسوں پر نیم کا تیل لگانے سے خارش اور تکلیف کم ہوتی ہے۔

‎ ضروری احتیاطی تدابیر
‎یونانی علاج کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی میں تبدیلی بہت ضروری ہے:

‎* فائبر کا استعمال: غذا میں ریشہ دار غذاؤں (سبزیاں، پھل، دالیں) کا اضافہ کریں تاکہ پاخانہ نرم آئے۔
‎* پانی کا زیادہ استعمال: دن میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینا قبض سے بچاتا ہے۔
‎* سٹز باتھ (Sitz Bath): نیم گرم پانی میں ٹب میں بیٹھنے سے درد اور سوجن میں فوری ریلیف ملتا ہے۔

‎بواسیر خونی و بادی ، فشر اور بھگندر کی شدید علامات میں مکمل یونانی علاج کے لیے حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک رجوع فرمائیں ۔
‎خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان
‎سیل نمبر 03034125007

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں