
بھارت میں جین زی کامیاب

روزنامہ امروز و روزنامہ مشرق سے روزنامہ نوائے وقت اور دیگر نیشنل و انٹرنیشنل اخبار و جرائد و الیکٹرانک میڈیا کا سفر صحافت




سرحد کے دونوں جانب واقع خطے "پنجاب” اکثر اپنی مشترکہ ثقافت، زبان اور تاریخ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، لیکن حال ہی میں حکومتی ترجیحات کے حوالے سے دونوں صوبوں کے درمیان ایک واضح اور حیران کن فرق سامنے آیا ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے ایک حالیہ بیان نے اس فرق کو نمایاں کر دیا ہے، جس میں انہوں نے دونوں حکومتوں کی جانب سے "11 ارب روپے” کے استعمال کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔
ایک طرف یہ خطیر رقم عوام کو ریلیف دینے کے لیے خرچ کی گئی، تو دوسری جانب مبینہ طور پر وی آئی پی پروٹوکول کی نذر ہو گئی۔ آئیے دونوں فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
بھارتی پنجاب کی قیادت نے اپنی توجہ عوامی فلاح و بہبود پر مرکوز رکھی ہے۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اپنی حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ براہِ راست عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا ہے۔
اہم اقدام:
دوسری جانب، پاکستان کے صوبہ پنجاب کی صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، حکومتی اخراجات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مبینہ اقدام:
پاکستانی پنجاب حکومت کے اس مبینہ فیصلے پر سیاسی حلقوں، معاشی ماہرین اور عوام کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
حکومتیں چاہے کہیں کی بھی ہوں، ان کی اصل کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ عوامی وسائل کو کس طرح اور کن ترجیحات کے تحت خرچ کرتی ہیں۔ 11 ارب روپے کی یکساں رقم نے دونوں خطوں کے حکمرانوں کی سوچ کا زاویہ واضح کر دیا ہے۔ ایک طرف یہ رقم اندھیرے دور کر کے کسانوں کے لیے روشنی کا باعث بن رہی ہے، اور دوسری جانب یہ حکومتی آسائشات کے لیے استعمال ہونے کی بنا پر تنقید کی زد میں ہے۔
بطور عوام، یہ سوچنا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ کیا ہمارے ٹیکس کا پیسہ ہماری فلاح کے لیے استعمال ہو رہا ہے یا محض طاقتوروں اور سیاسی اشرافیہ کی سہولیات کے لیے؟
قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

صحافت کو کسی بھی جمہوری معاشرے کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ ایک سچا اور غیر جانبدار صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، جو چھپی ہوئی حقیقتوں اور سچائی کو عوام کے سامنے لاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، سچ بولنے کی اس راہ میں کانٹے بہت ہیں۔ آج کے دور میں حقیقت اور سچائی کو سامنے لانے والے غیر جانبدار صحافیوں کو اپنا کام ایمانداری سے کرنے پر اکثر انتہائی سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان پیشہ ور افراد کو سچ کی قیمت چکانے کے لیے ہر سطح پر شدید دباؤ، تشدد اور قانونی شکنجوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آئیے ان اہم ترین خطرات پر ایک نظر ڈالتے ہیں جن کا سامنا آج کے آزاد اور غیر جانبدار صحافیوں کو ہے:
ایک صحافی کی زندگی ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے۔ بااثر مافیا، کرپٹ عناصر اور جنگجو گروپوں کی جانب سے اپنے کالے کرتوت اور سچ چھپانے کے لیے صحافیوں کو قتل، اغوا، اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جانا سب سے بڑا اور بھیانک خطرہ ہے۔ کئی صحافی حق اور سچ کی آواز بلند کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
سچ کی آواز کو دبانے کے لیے ریاستیں اور غیر ریاستی عناصر اکثر قانونی ہتھکنڈوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ ہتکِ عزت کے دعوے اور سخت سائبر قوانین کا غلط استعمال کر کے صحافیوں کو عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف ان کی توانائیاں اور وقت ضائع ہوتا ہے، بلکہ آزادیِ صحافت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل دور میں خطرات کی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر منظم ٹرولنگ، کردار کشی کی مہمات اور گالیاں صحافیوں (خاص طور پر خواتین صحافیوں) کے لیے روز کا معمول بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے ڈیجیٹل آلات کی ہیکنگ کے ذریعے ان کا قیمتی اور حساس ڈیٹا چوری کرنے اور انہیں نفسیاتی طور پر خوفزدہ کرنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔
صحافیوں کو خاموش کرانے کا ایک اور مؤثر ہتھیار ان کا معاشی قتل ہے۔ جب کوئی صحافی آزادانہ رپورٹنگ کرتا ہے، تو طاقتور حلقے میڈیا اداروں پر دباؤ ڈال کر اسے نوکری سے نکلوا دیتے ہیں۔ مزید برآں، ایسے اداروں کی مالی امداد اور اشتہارات بند کر دیے جاتے ہیں تاکہ سچ بولنے کی سزا پوری تنظیم کو دی جا سکے۔
حکومتوں یا طاقتور سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر غیر جانبدارانہ تنقید کرنا کسی بھی صحافی کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ ایسے صحافیوں کو براہ راست دھمکیاں دی جاتی ہیں اور اکثر سرکاری اداروں کی جانب سے تفتیش کے نام پر بلا کر ہراساں کیا جاتا ہے تاکہ وہ ڈر کر خاموشی اختیار کر لیں۔
ایک غیر جانبدار صحافی کی آواز دراصل عوام کی آواز ہوتی ہے۔ جب کسی صحافی کو خاموش کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ پورے معاشرے کو اندھیرے میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ان تمام تر خطرات کے باوجود جو صحافی سچائی کے علم کو بلند رکھے ہوئے ہیں، وہ ہمارے معاشرے کے حقیقی ہیرو ہیں۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے اور انہیں آزادی کے ساتھ کام کرنے کا محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ سچائی کا گلا نہ گھونٹا جا سکے۔
قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

صحافت کو کسی بھی جمہوری معاشرے کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد عوام تک سچی، کھری اور غیر جانبدارانہ معلومات پہنچانا ہے تاکہ لوگ حقائق کی بنیاد پر درست فیصلے کر سکیں۔ لیکن آج کے دور میں صحافت دو مختلف راستوں پر چل نکلی ہے: ایک طرف ‘غیر جانبدار صحافت’ ہے اور دوسری طرف ‘لفافہ جرنلزم’۔ آئیے ان دونوں کے درمیان پائے جانے والے بنیادی فرق کو سمجھتے ہیں۔
غیر جانبدار صحافت سے مراد وہ طرزِ صحافت ہے جس میں صحافی یا میڈیا ادارہ حقائق کو بغیر کسی ذاتی مفاد، سیاسی دباؤ یا وابستگی کے من و عن عوام کے سامنے پیش کرے۔
لفافہ جرنلزم صحافت کی دنیا میں ایک انتہائی منفی اور شرمناک اصطلاح ہے، جو عموماً رشوت ستانی، بدعنوانی اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ان دونوں نظریات کو اگر ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ان میں درج ذیل واضح فرق نظر آتا ہے:
ایک صحت مند اور باشعور معاشرے کی تشکیل کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہم غیر جانبدار صحافت کی حوصلہ افزائی کریں اور لفافہ جرنلزم کی بیخ کنی کریں۔ بطور قاری اور ناظر، یہ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم خبر کی سچائی کو پرکھیں اور سنسنی خیز یا یک طرفہ خبروں پر آنکھیں بند کر کے یقین نہ کریں۔
قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

برصغیر پاک و ہند میں پولیس کا نظام اور حکومتی طرزِ عمل ایک بڑا المیہ رہا ہے، کیونکہ انگریز دور میں بنایا گیا یہ نظام عوام کی حفاظت کے بجائے حکمرانوں کے مفادات اور نوآبادیاتی تسلط (Colonial Rule) کو برقرار رکھنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے، آزادی کے بعد بھی پاکستان اور بھارت میں اسی پرانے ڈھانچے کو برقرار رکھا گیا، جو موجودہ دور کا سب سے بڑا انتظامی المیہ بن چکا ہے۔
اس المیے کے بنیادی اسباب اور اثرات درج ذیل ہیں:
یہ المیہ صرف ایک محکمے کی خرابی نہیں، بلکہ یہ ریاستی نظام کی ناکامی کا عکاس ہے جہاں قانون اور عوام کی بالادستی کے بجائے طاقت اور اشرافیہ کی بالادستی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

پاکستان میں بلیو پاسپورٹ (آفیشل پاسپورٹ) اور اشرافیہ (Elite) کا تعلق حالیہ برسوں میں شدید بحث کا موضوع رہا ہے، کیونکہ اس پاسپورٹ کے ساتھ کئی خصوصی مراعات اور پروٹوکول منسلک ہیں۔
حالیہ مہینوں میں حکومتی فیصلوں اور سینیٹ میں پیش کیے جانے والے بعض بلز نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
پاکستان کا بلیو پاسپورٹ قانونی طور پر "آفیشل پاسپورٹ” کہلاتا ہے۔ یہ عام شہریوں کو جاری ہونے والے سبز (Green) پاسپورٹ سے الگ ہوتا ہے۔ یہ درج ذیل افراد کے لیے مخصوص ہے:
بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کو بین الاقوامی سطح پر عام شہریوں کے مقابلے میں غیر معمولی سہولیات حاصل ہوتی ہیں:
بلیو پاسپورٹ اور اشرافیہ کے گٹھ جوڑ پر عوام اور میڈیا میں سخت تنقید کی جاتی ہے:
جہاں ایک طرف عام پاکستانی شہری سبز پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ (جو کہ فی الحال 100ویں نمبر پر ہے) اور ویزا مسائل کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، وہیں دوسری طرف ملک کی سیاسی، سفارتی اور اب کاروباری اشرافیہ بلیو پاسپورٹ کے ذریعے دنیا بھر میں وی آئی پی سفری مراعات سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ پاکستانی عام شہری یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا پاکستان کی تمام مراعات صرف” اشرافیہ "کے لئے ہیں؟ کیا پاکستان صرف” اشرافیہ ” کے لئے بنا تھا؟
قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

لاہور میں ہونے والی ہائی پروفائل کیس غیر ملکی خواتین کی مبینہ زیادتی، اغوا و بازیابی سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں اور ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے درمیان شدید تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک صحافی نے سخت غصے میں افسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ ڈی آئی جی نہیں فرعون ہیں”.
اس واقعے اور پریس کانفرنس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
اس تلخ کلامی کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے۔ عوام اور صحافتی برادری کی جانب سے پولیس افسران کے پریس کانفرنسز میں رویوں اور آزادیِ صحافت کے حوالے سے مختلف تبصرے اور بحث جاری ہے کہ تمام ادارے خصوصاً پولیس اور ان سے وابستہ افراد صرف اشرافیہ کو خدمات اور ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے والے اور عوام الناس کےلئے ظالم حکمرانوں کے کارندے بن چکے ہیں۔
کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کے لیے سب سے بنیادی ستون قانون کی بالا دستی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، ترقی پذیر ممالک (خصوصاً پاکستان) میں یہ تاثر بہت گہرا ہے کہ اشرافیہ (امیر اور بااثر طبقے) کے لیے قانون اور ہے اور غریب اور عام عوام کے لیے اور۔
قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)
