دو پنجاب، دو مختلف ترجیحات: 11 ارب کا تھرمل پلانٹ بمقابلہ وی آئی پی طیارہ

سرحد کے دونوں جانب واقع خطے "پنجاب” اکثر اپنی مشترکہ ثقافت، زبان اور تاریخ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، لیکن حال ہی میں حکومتی ترجیحات کے حوالے سے دونوں صوبوں کے درمیان ایک واضح اور حیران کن فرق سامنے آیا ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے ایک حالیہ بیان نے اس فرق کو نمایاں کر دیا ہے، جس میں انہوں نے دونوں حکومتوں کی جانب سے "11 ارب روپے” کے استعمال کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔
ایک طرف یہ خطیر رقم عوام کو ریلیف دینے کے لیے خرچ کی گئی، تو دوسری جانب مبینہ طور پر وی آئی پی پروٹوکول کی نذر ہو گئی۔ آئیے دونوں فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

💡 بھارتی پنجاب کی ترجیح: عوام کے لیے مفت اور سستی بجلی

بھارتی پنجاب کی قیادت نے اپنی توجہ عوامی فلاح و بہبود پر مرکوز رکھی ہے۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اپنی حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ براہِ راست عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا ہے۔
اہم اقدام:

  • گوئندوال صاحب تھرمل پلانٹ کی خریداری: بھارتی پنجاب کی حکومت نے 1100 کروڑ روپے (11 ارب روپے) کی لاگت سے جی وی ک (GVK) کمپنی کا 540 میگا واٹ کا پرائیویٹ تھرمل پاور پلانٹ خریدا ہے۔
  • مقصد: اس خریداری کا بنیادی مقصد کسانوں اور گھریلو صارفین کے لیے مفت اور سستی بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اسے بھارتی پنجاب میں ایک بڑی عوامی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

🛩️ پاکستانی پنجاب کی ترجیح: وی آئی پی پروٹوکول اور نیا طیارہ

دوسری جانب، پاکستان کے صوبہ پنجاب کی صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، حکومتی اخراجات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مبینہ اقدام:

  • طیارے کی خریداری: اطلاعات کے مطابق، پاکستانی پنجاب کی وزیر اعلیٰ (مریم نواز شریف) کے زیرِ استعمال لانے کے لیے مبینہ طور پر 1100 کروڑ روپے (11 ارب روپے) کی مالیت کا ایک نیا طیارہ خریدا گیا ہے۔

📊 تنقید اور عوامی ردعمل

پاکستانی پنجاب حکومت کے اس مبینہ فیصلے پر سیاسی حلقوں، معاشی ماہرین اور عوام کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

  • معاشی ماہرین کی رائے: ناقدین کا ماننا ہے کہ جب ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہو اور عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو، ایسے میں اتنی خطیر رقم پبلک ویلفیئر، تعلیم، صحت یا روزگار کے منصوبوں پر خرچ ہونی چاہیے تھی۔
  • حزبِ اختلاف کا مؤقف: اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وی آئی پی پروٹوکول پر اربوں روپے لٹانا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

حکومتیں چاہے کہیں کی بھی ہوں، ان کی اصل کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ عوامی وسائل کو کس طرح اور کن ترجیحات کے تحت خرچ کرتی ہیں۔ 11 ارب روپے کی یکساں رقم نے دونوں خطوں کے حکمرانوں کی سوچ کا زاویہ واضح کر دیا ہے۔ ایک طرف یہ رقم اندھیرے دور کر کے کسانوں کے لیے روشنی کا باعث بن رہی ہے، اور دوسری جانب یہ حکومتی آسائشات کے لیے استعمال ہونے کی بنا پر تنقید کی زد میں ہے۔
بطور عوام، یہ سوچنا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ کیا ہمارے ٹیکس کا پیسہ ہماری فلاح کے لیے استعمال ہو رہا ہے یا محض طاقتوروں اور سیاسی اشرافیہ کی سہولیات کے لیے؟

قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

پاکستان میں غیر جانبدار صحافیوں کو درپیش سنگین خطرات

صحافت کو کسی بھی جمہوری معاشرے کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ ایک سچا اور غیر جانبدار صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، جو چھپی ہوئی حقیقتوں اور سچائی کو عوام کے سامنے لاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، سچ بولنے کی اس راہ میں کانٹے بہت ہیں۔ آج کے دور میں حقیقت اور سچائی کو سامنے لانے والے غیر جانبدار صحافیوں کو اپنا کام ایمانداری سے کرنے پر اکثر انتہائی سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان پیشہ ور افراد کو سچ کی قیمت چکانے کے لیے ہر سطح پر شدید دباؤ، تشدد اور قانونی شکنجوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آئیے ان اہم ترین خطرات پر ایک نظر ڈالتے ہیں جن کا سامنا آج کے آزاد اور غیر جانبدار صحافیوں کو ہے:

1. جانی نقصان اور جسمانی تشدد

ایک صحافی کی زندگی ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے۔ بااثر مافیا، کرپٹ عناصر اور جنگجو گروپوں کی جانب سے اپنے کالے کرتوت اور سچ چھپانے کے لیے صحافیوں کو قتل، اغوا، اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جانا سب سے بڑا اور بھیانک خطرہ ہے۔ کئی صحافی حق اور سچ کی آواز بلند کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔

2. قانونی شکنجہ اور سائبر قوانین کا غلط استعمال

سچ کی آواز کو دبانے کے لیے ریاستیں اور غیر ریاستی عناصر اکثر قانونی ہتھکنڈوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ ہتکِ عزت کے دعوے اور سخت سائبر قوانین کا غلط استعمال کر کے صحافیوں کو عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف ان کی توانائیاں اور وقت ضائع ہوتا ہے، بلکہ آزادیِ صحافت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔

3. آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل حملے

ڈیجیٹل دور میں خطرات کی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر منظم ٹرولنگ، کردار کشی کی مہمات اور گالیاں صحافیوں (خاص طور پر خواتین صحافیوں) کے لیے روز کا معمول بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے ڈیجیٹل آلات کی ہیکنگ کے ذریعے ان کا قیمتی اور حساس ڈیٹا چوری کرنے اور انہیں نفسیاتی طور پر خوفزدہ کرنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔

4. مالیاتی دباؤ اور روزگار کا چھن جانا

صحافیوں کو خاموش کرانے کا ایک اور مؤثر ہتھیار ان کا معاشی قتل ہے۔ جب کوئی صحافی آزادانہ رپورٹنگ کرتا ہے، تو طاقتور حلقے میڈیا اداروں پر دباؤ ڈال کر اسے نوکری سے نکلوا دیتے ہیں۔ مزید برآں، ایسے اداروں کی مالی امداد اور اشتہارات بند کر دیے جاتے ہیں تاکہ سچ بولنے کی سزا پوری تنظیم کو دی جا سکے۔

5. ریاستی و سیاسی دباؤ

حکومتوں یا طاقتور سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر غیر جانبدارانہ تنقید کرنا کسی بھی صحافی کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ ایسے صحافیوں کو براہ راست دھمکیاں دی جاتی ہیں اور اکثر سرکاری اداروں کی جانب سے تفتیش کے نام پر بلا کر ہراساں کیا جاتا ہے تاکہ وہ ڈر کر خاموشی اختیار کر لیں۔

ایک غیر جانبدار صحافی کی آواز دراصل عوام کی آواز ہوتی ہے۔ جب کسی صحافی کو خاموش کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ پورے معاشرے کو اندھیرے میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ان تمام تر خطرات کے باوجود جو صحافی سچائی کے علم کو بلند رکھے ہوئے ہیں، وہ ہمارے معاشرے کے حقیقی ہیرو ہیں۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے اور انہیں آزادی کے ساتھ کام کرنے کا محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ سچائی کا گلا نہ گھونٹا جا سکے۔

قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

غیر جانبدار صحافت اور لفافہ جرنلزم


صحافت کو کسی بھی جمہوری معاشرے کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد عوام تک سچی، کھری اور غیر جانبدارانہ معلومات پہنچانا ہے تاکہ لوگ حقائق کی بنیاد پر درست فیصلے کر سکیں۔ لیکن آج کے دور میں صحافت دو مختلف راستوں پر چل نکلی ہے: ایک طرف ‘غیر جانبدار صحافت’ ہے اور دوسری طرف ‘لفافہ جرنلزم’۔ آئیے ان دونوں کے درمیان پائے جانے والے بنیادی فرق کو سمجھتے ہیں۔

1. غیر جانبدار صحافت (Objective Journalism) کیا ہے؟

غیر جانبدار صحافت سے مراد وہ طرزِ صحافت ہے جس میں صحافی یا میڈیا ادارہ حقائق کو بغیر کسی ذاتی مفاد، سیاسی دباؤ یا وابستگی کے من و عن عوام کے سامنے پیش کرے۔

  • حقیقت پسندی: اس میں خبر کی مکمل چھان بین کی جاتی ہے۔ جذبات یا ذاتی رائے کو ایک طرف رکھ کر متوازن رپورٹنگ کی جاتی ہے۔
  • شفافیت: ایک پیشہ ور صحافی کبھی کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار نہیں بنتا، بلکہ حقائق کی تلاش ہی اس کا اصل نصب العین ہوتا ہے۔
  • عوامی مفاد: اس قسم کی صحافت کا واحد ہدف معاشرے کو باخبر رکھنا اور حقائق پر مبنی فیصلہ سازی میں عوام کی مدد کرنا ہے۔

2. لفافہ جرنلزم (Paid / Envelope Journalism)

لفافہ جرنلزم صحافت کی دنیا میں ایک انتہائی منفی اور شرمناک اصطلاح ہے، جو عموماً رشوت ستانی، بدعنوانی اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

  • ضمیر کی خریداری: ایسے صحافی یا ادارے مالی فوائد (لفافے)، تحائف یا اشتہارات کے عوض مخصوص افراد، سیاستدانوں یا طاقتور اداروں کے حق میں خبریں چلاتے ہیں۔
  • پراپیگنڈا اور بلیک میلنگ: اس مذموم عمل میں سچی خبر کو دبا دیا جاتا ہے اور من گھڑت کہانیاں پھیلا کر عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ذاتی فائدے کے لیے لوگوں کو بلیک میل بھی کیا جاتا ہے۔
  • اخلاقی زوال: یہ طرزِ عمل صحافتی اقدار، دیانت داری اور سچائی کی مکمل نفی کرتا ہے، جس سے معاشرے میں حق و باطل کے درمیان تمیز ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔

غیر جانبدار صحافت اور لفافہ جرنلزم میں بنیادی فرق

ان دونوں نظریات کو اگر ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ان میں درج ذیل واضح فرق نظر آتا ہے:

  • مقصد: غیر جانبدار صحافت کا واحد ہدف سچائی کی تلاش اور عوامی مفاد ہے، جبکہ لفافہ جرنلزم کا مقصد ذاتی، مالی یا سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔
  • پیشہ ورانہ مہارت: غیر جانبدار صحافی تحقیق، سچائی اور اصولوں پر کاربند رہتا ہے، اس کے برعکس لفافہ صحافی مفاد پرستی اور بلیک میلنگ کو ترجیح دیتا ہے۔
  • عوام پر اثر: غیر جانبدار صحافت عوام میں شعور بیدار کرتی ہے اور درست معلومات فراہم کرتی ہے، جبکہ لفافہ جرنلزم عوام کو گمراہ کر کے حقائق کو مسخ کرتا ہے۔

ایک صحت مند اور باشعور معاشرے کی تشکیل کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہم غیر جانبدار صحافت کی حوصلہ افزائی کریں اور لفافہ جرنلزم کی بیخ کنی کریں۔ بطور قاری اور ناظر، یہ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم خبر کی سچائی کو پرکھیں اور سنسنی خیز یا یک طرفہ خبروں پر آنکھیں بند کر کے یقین نہ کریں۔

قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

پولیس کے ذریعے حکومت (پاک و ہند کا المیہ)

برصغیر پاک و ہند میں پولیس کا نظام اور حکومتی طرزِ عمل ایک بڑا المیہ رہا ہے، کیونکہ انگریز دور میں بنایا گیا یہ نظام عوام کی حفاظت کے بجائے حکمرانوں کے مفادات اور نوآبادیاتی تسلط (Colonial Rule) کو برقرار رکھنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے، آزادی کے بعد بھی پاکستان اور بھارت میں اسی پرانے ڈھانچے کو برقرار رکھا گیا، جو موجودہ دور کا سب سے بڑا انتظامی المیہ بن چکا ہے۔

اس المیے کے بنیادی اسباب اور اثرات درج ذیل ہیں:

1۔ نوآبادیاتی ڈھانچہ (Colonial Structure)

  • عوام دشمن ماڈل: برطانوی راج نے 1861 کا پولیس ایکٹ متعارف کروایا جس کا مقصد برصغیر کے عوام کو ڈرانا اور دبانا تھا۔
  • نیم عسکری طرز: پولیس کو شہریوں کی خدمت کے بجائے ایک پیرامیلیٹری فورس (نیم عسکری) کے طور پر چلایا گیا۔
  • آزادی کے بعد تسلسل: تقسیمِ ہند کے بعد بھی دونوں ممالک کے حکمرانوں نے اس ایکٹ کو اپنے فائدے کے لیے جاری رکھا۔

2۔ سیاسی مداخلت اور استعمال

  • حکومتی آلہ کار: حکومتیں پولیس کو جرائم کے خاتمے کے بجائے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
  • میرٹ کی پامالی: پولیس افسران کے تبادلے اور بھرتیاں سیاسی وفاداری کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔
  • ادارتی خودمختاری کا فقدان: پولیس قانون کے تحت کام کرنے کے بجائے وقت کے حکمرانوں کے احکامات ماننے پر مجبور ہوتی ہے۔
  • پاک و ہند  میں سیاسی اشرافیہ (elite class) اور ان کی اولادوں کے جرائم اور پولیس کا رویہ ایک انتہائی حساس اور اہم سماجی موضوع ہے۔ سیاسی اشرافیہ کے جرائم کے حالیہ واقعات نے نشاندہی کی ہے کہ اس نظام میں عام طور پر طاقت، پیسے اور اثر و رسوخ کے سامنے قانون بے بس ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سب قانون صرف غریب عوام کے لئے ہیں۔

3۔ عوام اور پولیس میں دوری

  • خوف کی علامت: پولیس کو عوام کا مددگار ہونا چاہیے تھا، لیکن یہ برصغیر میں خوف اور دہشت کی علامت بن چکی ہے۔
  • تھانہ کلچر: تھانوں کا ماحول عام شہری کے لیے انتہائی نامناسب ہے، جہاں رشوت اور بدتمیزی عام بات ہے۔
  • حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی: ماورائے عدالت قتل (Encounters)، تشدد اور جھوٹے مقدمات اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔

4۔ اصلاحات کی ناکامی

  • سفارشات پر عمل نہ ہونا: وقت فوقتاً پولیس اصلاحات کے لیے کئی کمیشن بنے، لیکن ان کی رپورٹس پر کبھی حقیقی عمل نہیں ہوا۔
  • وسائل کی کمی: نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں کم، ڈیوٹی کے اوقات طویل اور تربیت جدید تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔

یہ المیہ صرف ایک محکمے کی خرابی نہیں، بلکہ یہ ریاستی نظام کی ناکامی کا عکاس ہے جہاں قانون اور عوام کی بالادستی کے بجائے طاقت اور اشرافیہ کی بالادستی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

بلیو پاسپورٹ اور اشرافیہ

پاکستان میں بلیو پاسپورٹ (آفیشل پاسپورٹ) اور اشرافیہ (Elite) کا تعلق حالیہ برسوں میں شدید بحث کا موضوع رہا ہے، کیونکہ اس پاسپورٹ کے ساتھ کئی خصوصی مراعات اور پروٹوکول منسلک ہیں۔
حالیہ مہینوں میں حکومتی فیصلوں اور سینیٹ میں پیش کیے جانے والے بعض بلز نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

بلیو پاسپورٹ کیا ہے اور یہ کسے ملتا ہے؟

پاکستان کا بلیو پاسپورٹ قانونی طور پر "آفیشل پاسپورٹ” کہلاتا ہے۔ یہ عام شہریوں کو جاری ہونے والے سبز (Green) پاسپورٹ سے الگ ہوتا ہے۔ یہ درج ذیل افراد کے لیے مخصوص ہے:

  • سرکاری حکام اور افسران: گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین جو سرکاری دورے پر جا رہے ہوں۔
  • سیاسی اشرافیہ: سینیٹرز، ارکانِ قومی اسمبلی، اور ان کے اہل خانہ۔
  • حالیہ اضافہ (کاروباری اشرافیہ): وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کے 42 بڑے ٹیکس دہندگان (Top Taxpayers) اور ایوارڈ یافتہ تاجروں کو بطورِ اعزاز بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
  • پاکستان میں اس وقت جاری کیے گئے بلیو (سرکاری) پاسپورٹس کی کل تعداد 57,000 ہے۔ان 57 ہزار افراد میں سے اراکین پارلیمنٹ کی تعداد صرف 1,000 کے لگ بھگ ہے۔اسی وجہ سے عوامی حلقوں کی طرف سے اس کی لسٹ پبلک کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے ۔

اشرافیہ کو ملنے والے فوائد اور مراعات

بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کو بین الاقوامی سطح پر عام شہریوں کے مقابلے میں غیر معمولی سہولیات حاصل ہوتی ہیں:

  • ویزہ فری انٹری یا ویزہ آن ارائیول: بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کو دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں بغیر ویزے کے یا پہنچنے پر ویزہ (Visa on Arrival) حاصل کرنے کی سہولت میسر ہے، جن میں ترکی، چین، اور کئی یورپی ممالک شامل ہیں (یہ سہولت صرف آفیشل دوروں یا مخصوص معاہدوں کے تحت ہوتی ہے)۔
  • ایئرپورٹ پروٹوکول: دنیا بھر کے ایئرپورٹس پر ان پاسپورٹ ہولڈرز کو لائنوں میں لگنے سے استثنیٰ ملتا ہے اور ان کی امیگریشن تیز رفتار خصوصی کاؤنٹرز کے ذریعے ہوتی ہے۔
  • سرکاری اخراجات: اس پاسپورٹ کی فیس اور سفری اخراجات اکثر حکومت یا متعلقہ محکمہ برداشت کرتا ہے۔

حالیہ تنازعات اور عوامی ردعمل

بلیو پاسپورٹ اور اشرافیہ کے گٹھ جوڑ پر عوام اور میڈیا میں سخت تنقید کی جاتی ہے:

  1. بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ کا مطالبہ: مئی 2026 میں سینیٹ میں ایک بل پیش کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سابق پارلیمنٹرینز اور ان کے 28 سال تک کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دیا جائے۔ اس بل پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، کیونکہ عوام اسے اشرافیہ کی ذاتی مراعات میں اضافے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
  2. مراعات کا غلط استعمال: ماضی میں کئی ایسے کیسز سامنے آئے جہاں سرکاری افسران یا سیاستدانوں کے بچوں نے بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال کیا اور بیرون ملک جا کر سیاسی پناہ (Asylum) حاصل کر لی۔ اس وجہ سے حکومت نے اب عام سرکاری ملازمین کے لیے اس کی مدت کم کر کے صرف 6 ماہ کر دی ہے، تاہم اعلیٰ حکام (گریڈ 21-22) اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔
  3. صوبائی اسمبلیوں کے حوالے سے افواہیں: حال ہی میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کو بھی یہ پاسپورٹ دیا جا رہا ہے، تاہم صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے واضح کیا کہ بلیو پاسپورٹ جاری کرنا صرف وفاق کا اختیار ہے اور ایسی خبریں بے بنیاد ہیں۔

جہاں ایک طرف عام پاکستانی شہری سبز پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ (جو کہ فی الحال 100ویں نمبر پر ہے) اور ویزا مسائل کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، وہیں دوسری طرف ملک کی سیاسی، سفارتی اور اب کاروباری اشرافیہ بلیو پاسپورٹ کے ذریعے دنیا بھر میں وی آئی پی سفری مراعات سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ پاکستانی عام شہری یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا پاکستان کی تمام مراعات صرف” اشرافیہ "کے لئے ہیں؟ کیا پاکستان صرف” اشرافیہ ” کے لئے بنا تھا؟

قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

"آپ ڈی آئی جی نہیں فرعون ہیں”

لاہور میں ہونے والی ہائی پروفائل کیس غیر ملکی خواتین کی مبینہ زیادتی، اغوا و بازیابی سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں اور ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے درمیان شدید تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک صحافی نے سخت غصے میں افسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ ڈی آئی جی نہیں فرعون ہیں”.
اس واقعے اور پریس کانفرنس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

پریس کانفرنس کا پس منظر اور تلخ کلامی

  • موقع: ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے.
  • وجہ: صحافیوں کی جانب سے کچھ چبھتے ہوئے اور سخت سوالات پوچھے گئے، جن کے جوابات دینے پر دونوں اطراف سے لہجہ سخت ہو گیا۔
  • صحافی کا ردعمل: ڈی آئی جی کے رویے یا جواب سے غیر مطمئن ہونے پر صحافی نے بلند آواز میں احتجاج کیا اور کہا، "آپ لاہور پولیس کے اعلیٰ افسر ہیں یا فرعون ہیں؟ میرے سوال کا جواب دیں”.
  • ہنگامہ آرائی: اس جملے کے بعد پریس کانفرنس میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور وہاں موجود دیگر صحافیوں کی طرف سے "شیم شیم” (Shame Shame) کے نعرے بھی لگائے گئے.اور ڈی آئی جی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

اس تلخ کلامی کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے۔ عوام اور صحافتی برادری کی جانب سے پولیس افسران کے پریس کانفرنسز میں رویوں اور آزادیِ صحافت کے حوالے سے مختلف تبصرے اور بحث جاری ہے کہ تمام ادارے خصوصاً پولیس اور ان سے وابستہ افراد صرف اشرافیہ کو خدمات اور ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے والے اور عوام الناس کےلئے ظالم حکمرانوں کے کارندے بن چکے ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کے لیے سب سے بنیادی ستون قانون کی بالا دستی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، ترقی پذیر ممالک (خصوصاً پاکستان) میں یہ تاثر بہت گہرا ہے کہ اشرافیہ (امیر اور بااثر طبقے) کے لیے قانون اور ہے اور غریب اور عام عوام کے لیے اور۔

قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں