
امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ تعلقات ایک اہم موڑ پر ہیں، جہاں ایک طرف کشیدگی برقرار ہے تو دوسری طرف اعلیٰ سطح کے رابطوں کے ذریعے معاملات کو سنبھالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
تازہ ترین صورتحال کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- امریکی صدر کا دورۂ چین: چینی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی 2026 تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
- تجارتی اور معاشی تعلقات: امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں چینی حکام کے ساتھ تجارتی بات چیت کی ہے، جس میں چینی ضوابط (regulations) پر امریکی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ معاشی استحکام دونوں ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے لیکن تجارتی پابندیوں اور مسابقت کی وجہ سے کھنچاؤ بدستور موجود ہے۔
- تائیوان کا مسئلہ (ریڈ لائن): چین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ پاک-چین تعلقات میں ایک "ریڈ لائن” ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ چین تائیوان کے معاملے پر کسی بھی بیرونی مداخلت کو اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔
- رابطوں کی بحالی: مئی 2026 کے آغاز میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بیان دیا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ضروری ہیں۔ امریکہ بھی کشیدگی کے باوجود رابطے برقرار رکھنے کے لیے پرعزم نظر آتا ہے۔
مجموعی طور پر، صدر ٹرمپ کا آئندہ دورہ دونوں طاقتوں کے درمیان مستقبل کی پالیسیوں اور (strategic) تعلقات کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
قاضی ایم اے خالد





















