امریکہ چین حالیہ تعلقات

امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ تعلقات ایک اہم موڑ پر ہیں، جہاں ایک طرف کشیدگی برقرار ہے تو دوسری طرف اعلیٰ سطح کے رابطوں کے ذریعے معاملات کو سنبھالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
تازہ ترین صورتحال کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • امریکی صدر کا دورۂ چین: چینی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی 2026 تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
  • تجارتی اور معاشی تعلقات: امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں چینی حکام کے ساتھ تجارتی بات چیت کی ہے، جس میں چینی ضوابط (regulations) پر امریکی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ معاشی استحکام دونوں ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے لیکن تجارتی پابندیوں اور مسابقت کی وجہ سے کھنچاؤ بدستور موجود ہے۔
  • تائیوان کا مسئلہ (ریڈ لائن): چین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ پاک-چین تعلقات میں ایک "ریڈ لائن” ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ چین تائیوان کے معاملے پر کسی بھی بیرونی مداخلت کو اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔
  • رابطوں کی بحالی: مئی 2026 کے آغاز میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بیان دیا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ضروری ہیں۔ امریکہ بھی کشیدگی کے باوجود رابطے برقرار رکھنے کے لیے پرعزم نظر آتا ہے۔

مجموعی طور پر، صدر ٹرمپ کا آئندہ دورہ دونوں طاقتوں کے درمیان مستقبل کی پالیسیوں اور (strategic) تعلقات کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

قاضی ایم اے خالد

لیسکو: شکایات کے انبار ،عدم شنوائی، کرپشن اور عوام

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) کے خلاف عوامی شکایات میں حالیہ برسوں کے دوران شدید اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجوہات اوور بلنگ، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، خراب میٹرز کی عدم تبدیلی اور عملے کی جانب سے رشوت ستانی جیسی شدید مشکلات کا عوام کو سامنا ہے۔ ان مسائل کے انبار نے صارفین کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اور وہ شدید ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ جبکہ انتظامی بے ضابطگیاں اور کرپشن کے معاملات الگ سے ہیں۔ عوام کی جانب سے مسلسل احتجاج کے باوجود شکایات کے انبار جوں کے توں ہیں۔اگرچہ لیسکو حکام عوامی شکایات کو دور کرنے کے لئے جدید سہولیات اور اقدامات کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ رہے اور وہ صرف فارمیلٹی کی حد تک ہیں۔

عوامی شکایات کی بنیادی وجوہات

  • اوور بلنگ غلط ریڈنگ اور فرضی بقایاجات: صارفین کی سب سے بڑی شکایات میٹر ریڈنگ کے بغیر اوور بلنگ اور فرضی بقایاجات ڈال کر بھاری بلوں کی وصولی ہے۔
  • میٹر فالٹس پر رشوت ستانی: اکثر میٹر فالٹس لیسکو عملہ خود پیدا کرتا ہے ۔ اور بعد ازاں لیسکو عملے کی طرف سے رشوت ستانی کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔
  • تکنیکی مسائل: لٹکتی تاریں، میٹرز اور ٹرانسفارمرز کی خرابی اور فوری مرمت نہ ہونا۔
  • توہین عدالت:لیسکو توہین عدالت کا سب سے زیادہ مرتکب ہے ۔ عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑا دینا اس ادارے اور اس کے عملے کا وطیرہ بن چکا ہے جو کہ عوام کےلئے تھانہ کلچر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
  • کرپشن: لیسکو کے اندر مختلف منصوبوں میں کروڑوں روپے کی خرد برد کے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔
    لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) میں کرپشن کے حوالے سے حالیہ مہینوں اور سال 2025-26 کے دوران کئی اہم واقعات اور کارروائیاں سامنے آئی ہیں:
    حالیہ انکوائریاں اور گرفتاریاں
    ایف آئی اے کی کارروائیاں: فروری 2026 میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے بلال کالونی سب ڈویژن میں کرپشن میں ملوث اہلکار کو گرفتار کیا۔ اس سے قبل جون 2025 میں بھی ایف آئی اے نے بڑے پیمانے پر انکوائری کے بعد متعدد افسران اور ملازمین کو معطل کر دیا تھا۔
    سامان کا غبن: فروری 2024 میں ایک بڑے سکینڈل کا انکشاف ہوا جس میں افسران پر 19 کروڑ کے بجائے 34 کروڑ روپے کا سامان جاری کروانے کا الزام تھا۔ اس کیس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کو گرفتار کیا گیا اور 39 افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔
    رشوت خوری: جون 2025 میں کوٹ عبدالمالک سب ڈویژن میں ایک اہلکار کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔
  • یہ چند واقعات صرف تمثیل کے لئے تحریر کئے گئے ہیں ایسے کرپشن اور رشوت ستانی کے بیشمار واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔

ورلڈ پیس انٹرنیشنل اور دیگر سماجی تنظیموں اور عوام الناس نے اعلی حکام سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ان شکایات کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے خاص طور پر لیسکو عملے کی طرف سے عدالتی احکامات کی عدم تعمیل اور توہین عدالت کی لا قانونیت کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قاضی ایم اے خالد

پاک چین لازوال دوستی کے 75 سال

پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کا آغاز 1951 میں ہوا، اور 2026 میں دونوں ممالک اپنی لازوال دوستی کے 75 سال مکمل ہونے کی خوشی میں خصوصی تقریبات منا رہے ہیں۔
پاک چین دوستی کی 75 سالہ تاریخ پر مبنی اہم نکات درج ذیل ہیں:

1. تاریخی پس منظر اور آغاز

پاکستان ان پہلے ممالک میں شامل تھا جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا۔ مئی 1951 میں باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے، جس کے بعد سے یہ تعلق "آل ویدر اسٹریٹجک پارٹنرشپ” (ہر موسم کی دوستی) میں تبدیل ہو چکا ہے۔

2. شاہراہِ قراقرم: دوستی کی علامت

1960 اور 70 کی دہائی میں تعمیر کی جانے والی شاہراہِ قراقرم (شاہراہِ ریشم) دونوں ممالک کے درمیان زمینی رابطے اور لازوال رفاقت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اسے "دنیا کا آٹھواں عجوبہ” بھی کہا جاتا ہے۔

3. اقتصادی تعاون اور سی پیک (CPEC)

گزشتہ چند دہائیوں میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس دوستی کا سب سے اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ سی پیک کے تحت توانائی، سڑکوں کے نیٹ ورک اور گوادر بندرگاہ کی ترقی نے پاکستان کی معیشت میں نئی روح پھونکی ہے۔

4. دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات

پاکستان اور چین کا دفاعی تعاون انتہائی گہرا ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی مشترکہ تیاری سے لے کر جدید بحری اور زمینی ٹیکنالوجی تک، دونوں ممالک ایک دوسرے کے دفاع کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

5. آزمائش کی ہر گھڑی میں ساتھ

پاک چین دوستی کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ یہ "شہد سے میٹھی، ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری” ہے۔

  • مشکل حالات: قدرتی آفات جیسے زلزلے، سیلاب یا کووڈ-19 کی وبا کے دوران چین نے ہمیشہ پاکستان کی بھرپور مدد کی۔
  • سیاسی حمایت: بین الاقوامی فورمز اور سلامتی کونسل میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے موقف کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔

6. 75 سالہ تقریبات (2026)

اس تاریخی سنگ میل کو منانے کے لیے سال 2026 میں پاکستان اور چین میں مختلف ثقافتی، تعلیمی اور سفارتی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کا دورہ چین اور مشترکہ کھیلوں کے مقابلے اس جشن کا حصہ ہیں۔

پاک چین دوستی کے 75 سال اس بات کا ثبوت ہیں کہ خلوص اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات وقت کے ہر امتحان پر پورا اترتے ہیں۔ یہ دوستی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے استحکام اور ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

قاضی ایم اے خالد

تھانہ کلچر میں تبدیلی کا ویژن

آئی جی پنجاب کا تھانہ کلچر میں تبدیلی کا ویژن جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی رویوں میں مثبت تبدیلی پر مبنی ہے، جس کا مقصد تھانے کو خوف کی علامت کے بجائے "انصاف اور تحفظ کا مرکز” بنانا ہے۔
اس ویژن کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1. عوامی رویوں میں تبدیلی (Soft Policing)

  • عزت و احترام: آئی جی پنجاب نے تمام افسران کو حکم دیا ہے کہ تھانے آنے والے ہر سائل کو "سر” یا "میڈم” کہہ کر مخاطب کیا جائے تاکہ شہریوں کے ساتھ عزت سے پیش آنے کا کلچر عام ہو۔
  • شکایات کا ازالہ: تھانوں میں سائلین کی بات غور سے سننے اور ان کے مسائل کو فوری حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

2. تھانوں کی جدید کاری (Infrastructure)

  • اسپیشل انشیٹو پولیس اسٹیشنز (SIPS): صوبہ بھر کے تھانوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے جہاں فرنٹ ڈیسک اور ویٹنگ ایریاز کو بہتر بنایا گیا ہے۔
  • سمارٹ پولیسنگ: پولیس کے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ ریکارڈ کی دستیابی اور کارکردگی کی مانیٹرنگ آسان ہو سکے۔

3. احتساب اور مانیٹرنگ

  • سی سی ٹی وی مانیٹرنگ: تھانوں کے اندرونی ماحول اور حوالات کی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ بدسلوکی یا تشدد کے واقعات کو روکا جا سکے۔
  • خواتین کی نمائندگی: خواتین کی سہولت کے لیے تھانوں میں لیڈی پولیس افسران کی تعیناتی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ بلا خوف و جھجھک اپنے مسائل بیان کر سکیں۔

4. حکومتی سرپرستی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے "پنجاب پولیس کا نیا چہرہ” اقدام کے تحت تھانہ کلچر کی تبدیلی کو ایک مشن کے طور پر لیا جا رہا ہے، جس میں افسران کی کارکردگی اور اخلاقیات پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی واضح پالیسی اپنائی گئی ہے۔

قاضی ایم اے خالد

حکیم خالد موتی مسجد شاہی قلعہ میں۔

حکیم خالد موتی مسجد میں فوٹو ۔ ورلڈ پیس انٹرنیشنل

موتی مسجد ، شاہی قلعہ لاہور کے اندر واقع مغلیہ دور کے فنِ تعمیر کا ایک خوبصورت شاہکار ہے۔ اسے سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کیا گیا ہے، جس کی چمک کی وجہ سے اسے "موتی مسجد” کہا جاتا ہے۔ 
اس مسجد کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

* تعمیر و بانی: یہ مسجد 17ویں صدی میں تعمیر کی گئی۔ زیادہ تر تاریخی شواہد کے مطابق اسے مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے تقریباً 1635ء سے 1645ء کے درمیانی عرصہ میں مکمل کروایا۔ تاہم، بعض روایات کے مطابق اس کی بنیاد شہنشاہ جہانگیر نے رکھی تھی۔


* محلِ وقوع: یہ مسجد شاہی قلعہ کے شمال مغربی کونے میں دیوانِ عام کے قریب واقع ہے۔
* فنِ تعمیر: مسجد کا ڈھانچہ مکمل طور پر سفید سنگِ مرمر سے بنا ہے۔ اس کے تین گنبد اور پانچ محرابیں ہیں جو اسے دیگر مساجد سے ممتاز بناتی ہیں۔
* سکھ اور برطانوی دور: مغلوں کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں اس مسجد کو "موتی مندر” کا نام دیا گیا اور اسے شاہی خزانے (توشہ خانہ) کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انگریزوں کے دور میں بھی اسے خزانہ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا یہاں تک کہ لارڈ کرزن کے حکم پر اسے دوبارہ مسجد کی حیثیت میں بحال کیا گیا۔
* روحانی روایات: اس مسجد کے بارے میں کئی پراسرار اور روحانی کہانیاں بھی مشہور ہیں، جیسے کہ یہاں جنات کا مسکن ہے اور نیک جنات کا پہرہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ یہاں منتیں مانگنے اور نوافل ادا کرنے آتے ہیں۔

قاضی ایم اے خالد

پنجاب: ٹریفک جرمانوں میں کمی

پنجاب میں ٹریفک جرمانوں کے حوالے سے نئی ترامیم (مئی 2026 کے مطابق) نافذ ہو چکی ہیں۔ ان ترامیم کے تحت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد جرمانوں میں واضح کمی کی گئی ہے اور قید کی سزائیں ختم یا کم کر دی گئی ہیں۔
نئے قانون "موٹر وہیکل ترمیمی بل 2026” کے مطابق اہم جرمانے درج ذیل ہیں:

موٹر سائیکل اور رکشہ کے جرمانے

  • بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانا: جرمانہ 2,000 روپے سے کم کر کے 1,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
  • سگنل کی خلاف ورزی: موٹر سائیکل کے لیے جرمانہ 1,000 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
  • رکشہ اوور لوڈنگ/خلاف ورزی: جرمانہ 3,000 روپے سے کم کر کے 1,000 روپے کر دیا گیا ہے۔

دیگر اہم جرمانوں میں کمی

  • بغیر ڈرائیونگ لائسنس: پہلے 50,000 روپے جرمانہ اور قید کی تجویز تھی، جسے اب کم کر کے 5,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
  • غلط سمت (Wrong Side) گاڑی چلانا: 6 ماہ قید اور 50,000 روپے جرمانہ ختم کر کے اب صرف 5,000 روپے جرمانہ ہوگا۔
  • عمر کی حد (Underage Driving): خلاف ورزی پر 10,000 روپے جرمانہ ہوگا اور گاڑی ضبط کر لی جائے گی۔
  • بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی: 6 ماہ قید یا 50,000 روپے کی جگہ اب صرف 5,000 روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
  • پبلک ٹرانسپورٹ (اوور لوڈنگ): چھت پر مسافر بٹھانے یا گنجائش سے زائد سواریوں پر 5,000 روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

ضروری نوٹ

  • اوور اسپیڈنگ: تیز رفتاری (Over-speeding) پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی گئی اور اس پر سخت کارروائی اور جرمانے برقرار رہیں گے۔
  • یہ ترامیم گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد پورے صوبے میں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔

قاضی ایم اے خالد

نرسنگ: ایک نوبل پروفیشن

پاکستان میں نرسوں کا ہفتہ 6 مئی سے 12 مئی تک اور عالمی دن ہر سال 12 مئی کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد صحت کے نظام میں نرسوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کی خدمات کو سراہنا ہے۔
پاکستان میں اس شعبے کی موجودہ صورتحال اور اہم نکات درج ذیل ہیں:

نرسوں کی کمی

  • بحران: پاکستان میں نرسوں کی شدید کمی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً 9 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے۔
  • تناسب: پاکستان میں 10 ہزار افراد کے لیے صرف 5 نرسیں ہیں۔
  • گریجویٹس: ہر سال ملک میں صرف 5,600 نرسنگ گریجویٹ تیار ہوتے ہیں، جو کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے کافی نہیں ہیں۔
فوٹو : حکیم قاضی ایم اے خالد ۔

درپیش مشکلات اور چیلنجز

  • کام کا دباؤ: نرسوں کی کمی کی وجہ سے موجودہ عملے کو سخت ڈیوٹی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  • ہراسانی: خواتین نرسوں کو ہسپتالوں میں ہراسانی اور سماجی مشکلات کا بھی سامنا رہتا ہے۔
  • برین ڈرین: بہتر مراعات اور تنخواہوں کی تلاش میں بڑی تعداد میں ہنر مند نرسیں بیرون ملک (جیسے خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکہ) جا رہی ہیں۔

روزگار اور تنخواہ

  • سرکاری ملازمت: پنجاب حکومت بی ایس نرسنگ کرنے والے امیدواروں کو 16ویں گریڈ میں ملازمت دیتی ہے، جہاں ابتدائی تنخواہ تقریباً 50 ہزار روپے ہوتی ہے۔
  • تعلیم: نرس بننے کے لیے 4 سالہ بی ایس (BS) نرسنگ کورس کرنا پڑتا ہے جس کے اخراجات نجی اداروں میں اوسطاً 5 سے 6 لاکھ روپے تک ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں نرسنگ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں روزگار کے مواقع تو بے شمار ہیں، لیکن اسے عالمی معیار کے مطابق لانے کے لیے مزید تعلیمی اداروں اور بہتر کام کے ماحول کی ضرورت ہے۔

قاضی ایم اے خالد

بحیثیت میڈیکل جرنلسٹ نرسنگ کے حوالے سے قاضی ایم اے خالد کا ایک تحقیقی آرٹیکل ” نرسنگ ایک باوقار پیشہ "سنڈے میگزین روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا تھا اس مضمون کو آن لائن پڑھنے کےلئے  درج ذیل تصویر پر کلک کریں۔

ہمیشہ پر امید رہیں

پرامید رہنا نہ صرف ایک اچھی عادت ہے بلکہ زندگی میں کامیابی کی کلید بھی ہے۔ یہ ایک ایسی طاقت ہے جو مشکل حالات میں بھی آپ کو گرنے نہیں دیتی۔

ہمیشہ پرامید رہنے کے لیے چند اہم باتیں:

  • مثبت سوچ کا انتخاب: جس طرح آدھا خالی گلاس دیکھنے کے بجائے آدھا بھرا ہوا گلاس دیکھنا زندگی کو خوشگوار بناتا ہے، ویسے ہی ہر مسئلے میں کوئی نہ کوئی خیر تلاش کریں۔
  • ذہنی و جسمانی صحت: نفسیاتی ماہرین کی تحقیق کے مطابق پرامید رہنے والے افراد نہ صرف زیادہ جیتے ہیں بلکہ وہ ذہنی دباؤ (ٹینشن) سے دور اور جسمانی طور پر صحت مند رہتے ہیں۔
  • حوصلہ اور عزم: نبی کریم ﷺ کا دل نہایت صاف اور ہمیشہ پرامید رہتا تھا، جس کی وجہ سے آپ کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی۔
  • کامیابی کا راز: دنیا کے کامیاب ترین افراد کی بڑی صفت ان کا پُرامید ہونا ہے، جو انہیں آگے بڑھنے کی ہمت دیتا ہے۔

یاد رکھیں، مایوسی کفر ہے۔مایوسی ناکامی کے دروازے پر دستک دیتی ہے، جبکہ اچھی امید اللہ کی رحمت پر یقین کا دوسرا نام ہے۔

قاضی ایم اے خالد

پنجاب، پاکستان اور تھانہ کلچر

پنجاب، پاکستان میں پولیس اسٹیشنز اور انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق حالیہ رپورٹوں اور اعداد و شمار کے مطابق درج ذیل اہم حقائق سامنے آئے ہیں:

ماورائے عدالت قتل اور پولیس مقابلے (2025-2026)

  • تشویشناک اضافہ: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی فروری 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں "کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ” (CCD) کے قیام کے بعد پولیس مقابلوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
  • اعداد و شمار: اپریل 2025 سے دسمبر 2025 کے درمیان صرف 8 ماہ میں 924 افراد پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔
  • عدم توازن: ان 670 مبینہ پولیس مقابلوں میں جہاں 900 سے زائد ملزمان مارے گئے، وہیں پولیس کا جانی نقصان صرف 2 اہلکاروں تک محدود رہا، جس کی بنیاد پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے "منظم ماورائے عدالت قتل” قرار دیا ہے۔
  • حراستی ہلاکتیں: تھانوں میں تشدد سے ہونے والی اموات (Custodial Deaths) کے بعد پولیس اکثر انہیں خودکشی یا دل کا دورہ پڑنے کا رنگ دیتی ہے، جبکہ لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں دوران حراست تشدد سے مارا جاتا ہے۔ 

تھانہ کلچر اور حراستی تشدد

  • حراستی اموات اور تشدد: پنجاب پولیس پر تھانوں میں غیر قانونی حراست، بہیمانہ تشدد اور تذلیل کے سنگین الزامات ہیں۔ حالیہ واقعات میں لاہور کے متعدد تھانوں کے عملے کو شہریوں پر تشدد اور بدسلوکی کی بنیاد پر معطل بھی کیا گیا ہے۔
  • خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم: وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سرفہرست ہے، جہاں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد، زیادتی اور قتل کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
  • دفعہ 7/51 کا غیر ضروری استعمال: پولیس اختیارات میں عدم توازن ہے جسے متوازن کرنا لازم ہے۔عام معصوم شہری کسی بھی حوالے سے پولیس حراست میں آئیں تو فوری طور پر  انگریز کی غلامی کی یادگار دفعہ 7/51 لگا کر پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے۔ اور من چاہی تحریر پر دستخط کروائے کے بعد آزاد کیا جاتا ہے اور اکثر مظلوم کو ہی مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے۔اس کے علاؤہ بھی خطرناک دفعات لگا دی جاتی ہیں جس کا شریف شہری سوچ بھی نہیں سکتا۔پولیس اصلاحات کے باوجود انگریز دور کی غلامی کی اس یادگار کو ختم نہیں کیا گیا جو ایک آزاد اسلامی ریاست کے شایان شان نہیں۔کسی فرد کو بلا وجہ پابند سلاسل کرنا دنیا کی سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔آزاد اسلامی جمہوریہ پاکستان کےلئے اپنے شریف شہریوں کی آزادی آئین پاکستان کے مطابق سب سے اولین ہے۔جسے کسی صورت صلب نہیں ہونا چاہئے۔

ادارہ جاتی ردِعمل اور اصلاحات

  • سرکاری موقف: پنجاب پولیس اور حکومتی حکام ان الزامات کی حسب سابق و معمول تردید کرتے ہیں اور ان کارروائیوں کو سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ محکمہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ سمارٹ پولیسنگ اور ڈیجیٹل کمپلینٹ سینٹرز کے ذریعے شفافیت لائی جا رہی ہے۔
  • قانونی تحفظ: "ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022” کے تحت ہر حراستی موت کی تحقیقات ایف آئی اے (FIA) کے ذریعے ہونا لازمی ہے، تاہم حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان قانونی تقاضوں پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
  • کڑے احتساب کا فقدان: پنجاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی کے اعلانات کے باوجود پولیس افسران کو ان کے جرائم پر کڑی سزا نہیں ملتی، جس سے ان کی شریف شہریوں پر مظالم کی مزید حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ان خلاف ورزیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ پولیس اصلاحات مرتب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس کا مطالعہ بھی از حد ضروری ہے۔

قاضی ایم اے خالد

مینوں اچھرے موڑ تے مل وے۔

۔”مینوں اچھرے موڑ تے مل وے”یہ مشہور پنجابی لوک گیت کے بول ہیں جو لاہور کے معروف علاقے اچھرہ سے منسوب ہیں۔ اس گانے کے چند خاص پہلو یہ ہیں:

  • مقبولیت: یہ گیت خاص طور پر لاہور کی ثقافت اور وہاں کے مخصوص مقامات (جیسے اچھرہ موڑ) کی عکاسی کرتا ہے۔
  • ثقافتی پہچان: سوشل میڈیا اور مقامی محفلوں میں یہ گیت آج بھی شوق سے سنا جاتا ہے اور اسے یوٹیوب، فیس بک یا گوگل سرچ انجن جیسے پلیٹ فارمز پر مختلف گلوکاروں کی آواز میں سرچ کیا جا سکتا ہے۔

اچھرہ بازار

لاہور کا اچھرہ بازار (Ichhra Bazaar) شہر کے قدیم ترین اور مصروف ترین تجارتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہ فیروز پور روڈ پر واقع ہے اور اپنی سستی قیمتوں اور روایتی اشیاء کی وجہ سے پورے پنجاب میں مشہور ہے۔


حالیہ اپ گریڈیشن کے بعد، اس بازار کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے، جس میں خواتین کے لیے الگ پبلک واش رومز اور جدید انفراسٹرکچر شامل ہے۔

بازار کی اہم معلومات

  • لوکیشن: یہ فیروز پور روڈ پر واقع ہے۔ قریب ترین لینڈ مارک اچھرہ میٹرو بس اسٹیشن ہے۔
  • مشہور اشیاء:
  • کپڑے: ہر قسم کے ان سلے (unstitched) اور سلے سلائے کپڑے، خاص طور پر بنارسی ساڑھیاں، شفون اور ریشم۔
  • کھسے اور جیولری: روایتی چمڑے کے کھسے اور ہاتھ سے بنی جیولری۔
  • فرنیچر: اچھرہ فرنیچر مارکیٹ یہاں ہرقسم کا فرنیچر خاص طور پر چنیوٹی طرز کا فرنیچر بھی دستیاب ہوتا ہے۔
  • عینک مارکیٹ: اچھرہ میں عینک مارکیٹ سے ہر طرح کی عینک رینج دستیاب ہے ۔ "اقبال آپٹیکل” عینک سازی و فروخت میں معروف ہیں۔
  • جیولر مارکیٹ: اچھرہ جیولرز مارکیٹ میں سونے چاندی کے زیورات کی خرید وفروخت کی وسیع رینج ہے۔
  • چاچا بسا سویٹس: اچھرہ کی مشہور مٹھائی کی دوکان ہے 1910 سے قائم شدہ ہے۔یہاں پر تمام مٹھائیاں لاجواب ہیں۔لیکن برفی اور رس ملائی بہت زیادہ مشہور و معروف ہیں۔اچھرہ میں ان کی دو برانچیں ہے ایک ذیلدار روڈ پر اور دوسری احمد منیر شہید روڈ پر واقع ہیں۔
  • مطب حکیم قاضی ایم اے خالد: معروف معالج حکیم قاضی ایم اے خالد کا مطب ، خالد خاندانی دواخانہ کے نام سے اچھرہ بازار میں داخل ہونے کے بعد بائیں ہاتھ جیولرز مارکیٹ کے آخر میں 32 ذیلدار روڈ اچھرہ میں واقع ہے۔
  • سٹریٹ فوڈ: لڈو پیٹھیاں والے، پٹھورے، دہی بھلے اور آلو چنا یہاں کے مشہور کھانے ہیں جو پاکستانی چوک اچھرہ کی فوڈ سٹریٹ میں دستیاب ہیں۔

قاضی ایم اے خالد

مطب حکیم قاضی ایم اے خالد

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں