
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت عدل و انصاف اور اسلامی فلاحی ریاست کی ایک روشن اور بے مثال تاریخ ہے۔ انہوں نے محصولات (ٹیکس) کے نظام کو انتہائی منصفانہ بنیادوں پر استوار کیا اور پرانے ایرانی و رومی سلطنتوں کے ہر قسم کے ظالمانہ اور غیر منصفانہ ٹیکسوں کا سختی سے خاتمہ کیا۔
ان کے معاشی اور ٹیکس نظام کے نمایاں اقدامات درج ذیل ہیں:
1. ٹیکس کے تعین میں استطاعت کا خیال
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اصول وضع کیا کہ کوئی بھی ٹیکس (خواہ وہ مسلمانوں پر زکوٰۃ و عشر ہو یا غیر مسلموں پر جزیہ و خراج) عوام کی استطاعت سے بڑھ کر نہیں ہونا چاہیے۔ محصولات کا تعین زمین کی پیداواری صلاحیت، فصل کی نوعیت اور تاجروں کے منافع کو دیکھ کر کیا جاتا تھا تاکہ کسی پر معاشی بوجھ نہ پڑے۔
2. زمینوں کی پیمائش اور منصفانہ خراج (زرعی ٹیکس)
جب عراق (سواد) فتح ہوا تو انہوں نے وہاں کا پرانا ظالمانہ زرعی نظام ختم کر دیا۔ انہوں نے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو بھیج کر تمام زرعی زمینوں کی باقاعدہ پیمائش کروائی۔ اس پیمائش کے بعد زمین کی کوالٹی، فصل (گندم، جَو، کھجور، انگور وغیرہ) اور آبپاشی کے ذرائع کے حساب سے خراج مقرر کیا گیا تاکہ کسانوں کا استحصال نہ ہو۔
3. ٹیکس دہندگان سے حسنِ سلوک اور عاملین کا احتساب
ٹیکس وصول کرنے والے اہلکاروں (عاملین) کو سخت ہدایات تھیں کہ وصولی کے وقت کسی کے ساتھ سختی یا زیادتی نہ کی جائے۔
- اگر کوئی اہلکار عوام سے ظلم سے ٹیکس وصول کرتا، تو اسے فوراً معطل کر کے سخت سزا دی جاتی تھی۔
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ٹیکس کی وصولی کے دوران کسانوں کے مویشی یا ان کے روزمرہ کے استعمال کی چیزیں ضبط نہ کی جائیں۔
4. معذوروں، بوڑھوں اور ناداروں کے لیے جزیہ (ٹیکس) معافی
غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) سے ان کے جان و مال کے تحفظ کے بدلے جزیہ لیا جاتا تھا، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ظالمانہ طریقوں کو رد کرتے ہوئے کمزوروں کو اس سے مکمل استثنیٰ دیا۔ - بچوں، عورتوں، بوڑھوں، اپاہجوں، اور تارک الدنیا راہبوں پر کوئی ٹیکس نہیں تھا۔
- ایک مشہور واقعہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک بوڑھے نابینا یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا تو پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ اس نے کہا کہ جزیہ ادا کرنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً اس کا ٹیکس معاف کیا اور بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر کرتے ہوئے فرمایا: "یہ کیسا انصاف ہے کہ ہم اس کی جوانی سے فائدہ اٹھائیں اور بڑھاپے میں اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیں؟”
5. ہنگامی حالات میں ٹیکس کی معافی (عام الرمادہ)
سن 18 ہجری میں جب حجاز میں سخت قحط پڑا (جسے عام الرمادہ کہا جاتا ہے)، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معاشی بحران کے پیشِ نظر زکوٰۃ اور دیگر محصولات کی وصولی کو مؤخر کر دیا تاکہ عوام پر دباؤ نہ پڑے۔ جب حالات بہتر ہوئے تب جا کر معمول کا نظام بحال کیا گیا۔
6. کسانوں اور زمینداروں کے حقوق کا تحفظ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنے افسران سے پوچھتے تھے کہ کہیں زمین پر اس کی پیداوار سے زیادہ ٹیکس تو نہیں لگا دیا گیا؟ آپ کا واضح فرمان تھا کہ ریاست کا خزانہ عوام کا خون چوس کر نہیں بھرا جا سکتا۔ انہوں نے تجارتی ٹیکسوں میں بھی مقامی اور غیر ملکی تاجروں کے لیے واضح اور منصفانہ شرحیں مقرر کیں۔
خلاصہ:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ ٹیکس کا مقصد حکمرانوں کی عیاشی یا محض خزانہ بھرنا نہیں، بلکہ دولت کی منصفانہ تقسیم اور عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ ان کے اقدامات نے ثابت کیا کہ ریاست کی خوشحالی ظالمانہ ٹیکسوں میں نہیں، بلکہ عوام کے ساتھ معاشی انصاف میں پوشیدہ ہے۔
اسلام کے نام پر بننے والے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدل فاروقی کے تحت ٹیکس کا نظام وضع کیا جائے
(غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک کے حکمران عرصہ دراز سے حضرت عمر فاروق رضی عنہ کے نظام معیشت کو پہلے ہی اپنا چکے ہیں اور کامیاب ہیں)
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران بھی ظالمانہ ٹیکسز کو ختم کرتے ہوئے اسلامی نظام معیشت کو اپنائیں۔
قاضی ایم اے خالد









