
آج کل مہنگائی کے اس دور میں جہاں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو چکا ہے، وہیں بجلی کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر واپڈا کے خلاف ایک مہم زور پکڑ رہی ہے، اور اس مہم کی بنیاد وہ تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا ہر ماہ کروڑوں پاکستانیوں کو کرنا پڑتا ہے۔
واپڈا کے بلنگ سسٹم (ٹیرف سلیب) کے اس ظالمانہ نظام کو دیکھ کر ہر باشعور شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟
📊 حیران کن اعداد و شمار: آخر ایسا کیوں؟
ایک انتہائی سادہ لیکن چونکا دینے والی مثال درج ذیل ہے جو واپڈا کے ظالمانہ سلیب سسٹم کی خامیوں کو واضح کرتی ہے:
- اگر آپ کا بل 199 یونٹس ہے: تو آپ کو تقریباً 3600 روپے ادا کرنے ہوں گے۔
- اگر آپ کا بل 201 یونٹس ہے: تو آپ کا بل اچانک چھلانگ لگا کر 9000 روپے تک پہنچ جائے گا۔
صرف 2 یونٹس کا فرق!
جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا۔ میٹر میں صرف 2 یونٹس کے اضافے سے بل میں 5400 روپے کا ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے۔
⚖️ یہ عوام کے ساتھ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟
یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو یونٹس بڑھنے سے بل میں ہزاروں روپے کا اضافہ دنیا کے کس قانون کے تحت جائز ہے؟ یہ ٹیرف سسٹم غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک جال بن چکا ہے، جہاں ایک یا دو پنکھے زیادہ چل جانے یا کسی ہنگامی صورتحال میں ذرا سی بجلی زیادہ استعمال ہونے پر صارف کو ہزاروں روپے کا جرمانہ (بڑھے ہوئے ریٹ کی صورت میں) ادا کرنا پڑتا ہے۔
یہ نظام نہ صرف ظالمانہ غیر منطقی ہے بلکہ سراسر عوام کا معاشی استحصال ہے۔
✊ اس مہم کا حصہ بنیں: آپ کیا کر سکتے ہیں؟
"آواز اٹھائیں — کیونکہ خاموشی مسئلے کا حل نہیں!”
ہم سب کو بطور ذمہ دار شہری اس ناانصافی کے خلاف اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آپ مندرجہ ذیل طریقوں سے اس مہم کی بھرپور حمایت کر سکتے ہیں:
- شعور بیدار کریں: اس مسئلے کو اپنے دوستوں، خاندان اور حلقہ احباب میں زیرِ بحث لائیں۔
- سوشل میڈیا کا استعمال: ایسی کوئی بھی پوسٹ، تصویر یا ویڈیو جو اس ناانصافی کو اجاگر کرے، اسے اپنا فرض سمجھتے ہوئے اپنے فیس بک، ٹوئٹر، اور واٹس ایپ پر ضرور شیئر کریں۔
- حکامِ بالا تک آواز پہنچائیں: اس مہم کو اتنا پھیلائیں کہ یہ آواز ہر گھر، ہر شہر اور ہر ذمہ دار ادارے (بشمول واپڈا حکام اور وزارتِ توانائی) تک پہنچ سکے۔
عوام کو ریلیف فراہم کرنا ریاست اور اس کے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بجلی کے سلیب سسٹم میں موجود اس ظالمانہ فرق کو ختم ہونا چاہیے تاکہ عوام بلوں کی ادائیگی کے خوف سے آزاد ہو کر سکھ کا سانس لے سکیں۔
آج ہی اس مہم میں اپنی آواز شامل کریں، کیونکہ آپ کی ایک شیئر کی گئی پوسٹ تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے! 🚫⚡
کیا آندھیر نگری ہے کہ حکومتی ڈکیتی واپڈا کے ذریعے ابھی تک جاری و ساری ہے۔ایسا قانون بنانے والے اور اس پر عمل درآمد کروانے والے اسلامی شریعت کی رو سے جہنمی ہیں۔ظالم ہیں اور ظالموں پر اللہ پاک نے لعنت فرمائی ہے۔الا لعنة الله على الظالمين
قاضی ایم اے خالد










