امریکہ،ایران تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا

امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا باضابطہ اعلان 15 جون 2026 کو کیا گیا۔ طویل اور پیچیدہ سفارتی کوششوں کے بعد ہونے والے اس معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔
اس معاہدے کی بنیادی تفصیلات، اہم نکات اور عالمی ردِعمل درج ذیل ہے:

معاہدے کے اہم نکات

  • فوجی کارروائیوں کا خاتمہ: دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
  • بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تصدیق کی ہے تاکہ تیل کی عالمی سپلائی بحال ہو سکے۔
  • منجمد اثاثے اور مذاکرات: معاہدے کے تحت ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور 60 روزہ اسٹریٹجک مذاکرات کا فریم ورک شامل کیا گیا ہے۔

پاکستان اور دیگر ممالک کا ثالثی کردار

  • پاکستان کا کلیدی کردار: اس تاریخی معاہدے کو ممکن بنانے میں پاکستان نے بنیادی ثالث کا کردار ادا کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کی سفارت کاری کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
  • دیگر ثالث ممالک: پاکستان کے علاوہ قطر (جس کے وفد نے تہران میں 15 گھنٹے طویل مذاکرات کیے)، سعودی عرب، ترکی اور چین نے بھی اس عمل میں اہم سفارتی تعاون فراہم کیا۔

عالمی ردِعمل

  • امریکی قیادت: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اس کی تصدیق کی۔
  • ایرانی قیادت: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی حکومت نے آخری نکات پر طویل بحث کے بعد اس مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا۔
  • بین الاقوامی پزیرائی: سعودی عرب، یورپی یونین، چین، برطانیہ، کینیڈا اور نیدر لینڈز سمیت دنیا بھر کے ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر ثالثوں کی تعریف کی ہے۔
  • اسرائیلی تحفظات: دوسری جانب، اسرائیلی وزیر خزانہ جیسے حکام نے اس معاہدے کو اسرائیل کے مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

قاضی ایم اے خالد

بولوں کیسے کہ لب آزاد نہیں

خاموشی بھی کبھی کبھی ایک چیخ ہوتی ہے۔
جب معاشرے میں سچ بولنے والے ڈرنے لگیں، اختلافِ رائے جرم بن جائے، اور حق کی آواز دبانے کی کوشش کی جائے تو انسان کے دل سے بے اختیار یہ صدا نکلتی ہے:

"بولوں کیسے کہ لب آزاد نہیں۔”

یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ بے شمار لوگوں کے دل کی کیفیت ہے۔ آزادیِ اظہار ہر مہذب معاشرے کا بنیادی حق ہے، لیکن آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی کی عزت، عقیدے یا حقوق کو پامال کیا جائے۔ اصل آزادی وہ ہے جہاں سچ، انصاف، برداشت اور ذمہ داری ایک ساتھ چلیں۔

آج کا دور معلومات کا دور ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا نے ہر فرد کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا ہے، تو دوسری طرف نفرت، جھوٹ اور بے بنیاد خبروں نے بھی جگہ بنا لی ہے۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ ہماری زبان اور قلم دونوں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

اگر حالات ایسے ہوں کہ انسان اپنے ضمیر کی آواز بھی نہ اٹھا سکے تو معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ترقی ہمیشہ انہی قوموں نے کی جنہوں نے مکالمے، دلیل اور اختلافِ رائے کو برداشت کیا۔

بطور مسلمان ہمیں قرآن و سنت سے بھی یہ سبق ملتا ہے کہ حق بات حکمت، عدل اور حسنِ اخلاق کے ساتھ کہی جائے۔ سخت لہجہ، الزام تراشی اور نفرت کبھی بھی اصلاح کا ذریعہ نہیں بنتے۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

  • سچ بولیں، مگر شائستگی کے ساتھ۔
  • اختلاف کریں، مگر احترام کے دائرے میں رہ کر۔
  • کسی خبر کو پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔
  • اپنی گفتگو اور تحریر کو معاشرے میں خیر اور اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ بعض اوقات حالات انسان کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں، لیکن حق، انصاف اور اخلاق کی آواز کبھی مکمل طور پر خاموش نہیں ہوتی۔ ہر ذمہ دار قلم اور ہر باکردار زبان معاشرے میں امید کی نئی شمع روشن کر سکتی ہے۔

"الفاظ میں طاقت ہوتی ہے؛ انہیں نفرت کے لیے نہیں، بلکہ سچ، محبت اور اصلاح کے لیے استعمال کیجیے۔”

قاضی ایم اے خالد (قلم مزدور)

قدرتی اور ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔ وفاقی وزیر قومی صحت

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی صحت، سید مصطفیٰ کمال نے جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات (Herbal and Eastern Medicines) کو ملکی نظامِ صحت کا اہم حصہ بنانے کے لیے ایک جامع اور واضح موقف اختیار کیا ہے。 ان کا ماننا ہے کہ پاکستان کا موجودہ صحت کا روایتی نظام صرف بیماریاں پیدا کر رہا ہے، اور جب تک ہم متبادل اور قدرتی طریقہ علاج کی طرف نہیں آئیں گے، عوام کو سستا اور مستقل علاج فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا。
جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات پر اسلام آباد میں ہونے والے سیمینار میں ان کے اہم بیانات اور حکومتی اقدامات درج ذیل نکات پر مبنی ہیں:

1۔ ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت

  • مصطفیٰ کمال کے مطابق، موجودہ دور میں ہربل ادویات اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔
  • ان کا کہنا ہے کہ روایتی اور مشرقی طریقہ علاج (مشرقی ادویات) کی اہمیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا اور اب اس شعبے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

2۔ ایلوپیتھک اور ایسٹرن میڈیسن کا امتزاج

  • وفاقی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات کو فروغ دینے کا مقصد مغربی طریقہ علاج (Allopathic) کی مخالفت کرنا نہیں ہے۔
  • حکومت کا اصل ہدف یہ ہے کہ ایلوپیتھک علاج کے ساتھ ساتھ مشرقی ادویات کو بھی متوازی طور پر فروغ دیا جائے تاکہ مریضوں کو علاج کے بہتر اور محفوظ متبادل میسر ہوں۔

3۔ اسلام آباد میں الگ سیکرٹریٹ کا قیام

  • روایتی طب کو سرکاری سطح پر منظم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں ایک علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • اس سیکرٹریٹ کا مقصد ہربل ادویات کے شعبے کی نگرانی کرنا اور اس سے وابستہ مینوفیکچررز کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔

4۔ جلد نئی ریگولیشنز اور کوالٹی کنٹرول کا نفاذ

  • مارکیٹ میں غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے حکومت بہت جلد جدید ریگولیٹری فریم ورک (قوانین) متعارف کرانے جا رہی ہے۔
  • پودوں اور جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والی ادویات کے لیے بین الاقوامی معیار بندی (Standardization) اور کلینیکل ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ ان کی افادیت سائنسی طور پر ثابت ہو سکے۔

5۔ جدید ریسرچ اور عوامی آگاہی

  • انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جڑی بوٹیوں کے شعبے میں ہونے والی جدید سائنسی تحقیق سے عام عوام کو آگاہ کیا جائے۔
  • حکومت کا عزم ہے کہ روایتی ادویات کو جدید سائنسی اصولوں کے مطابق ڈھال کر ملکی معیشت اور صحت عامہ دونوں کو بہتر بنایا جائے۔

قاضی ایم اے خالد

آئی ایم ایف کے جال سے کیسے نکلیں

آئی ایم ایف (IMF) کے قرضوں کے جال سے نکلنے کا واحد حل آمدنی میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور گہرے ڈھانچہ جاتی اصلاحات (Structural Reforms) ہے۔  جب تک کوئی ملک بیرونی امداد پر انحصار کم کر کے اپنے وسائل خود پیدا نہیں کرتا، وہ اس چکر سے باہر نہیں نکل سکتا۔
آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات حاصل کرنے کے بنیادی اور اہم ترین اقدامات درج ذیل ہیں:

1۔ برآمدات (Exports) میں اضافہ

  • صنعتی پیداوار: مقامی فیکٹریوں کو سستی توانائی فراہم کر کے پیداوار بڑھائی جائے۔
  • آئی ٹی اور سروسز: انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فری لانسنگ کے شعبے کو فروغ دیا جائے۔
  • نئی منڈیاں: دنیا بھر میں نئی تجارتی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے۔

2۔ ٹیکس نیٹ میں توسیع (Tax Reforms)

  • دائرہ کار میں اضافہ: زراعت، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
  • ڈیجیٹلائزیشن: ٹیکس چوری روکنے کے لیے ایف بی آر کے نظام کو مکمل ڈیجیٹل کیا جائے۔
  • امیروں پر ٹیکس: غریبوں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے براہِ راست ٹیکسوں کا نظام نافذ ہو۔ جبکہ موجودہ نظام میں تمام ٹیکسز غریبوں سے لے کر اشرافیہ کی جیبیں بھری جا رہی ہیں۔

3۔ سرکاری اخراجات اور نقصانات میں کمی

  • غیر پیداواری اخراجات: سرکاری افسران اور وزراء کی مراعات میں فوری کمی کی جائے۔جب ایک افسر کی تنخواہ ساٹھ لاکھ ہے تو کیا اسے مفت پٹرول مفت بجلی اور دیگر مراعات کی خیرات درکار ہے تو ادنی غریب کو کیا ان مراعات کی ضرورت نہیں ۔ملک میں اسلامی قانون رائج ہے تو اسلامی مساوات بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے
  • سرکاری اداروں کی نجکاری: پی آئی اے اور ریلوے جیسے خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کی جائے۔
  • توانائی کے شعبے میں اصلاحات: بجلی چوری اور لائن لاسز کو ختم کیا جائے۔

4۔ غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا فروغ

  • آسان کاروبار (Ease of Doing Business): سرمایہ کاروں کے لیے نوکر شاہی کے پیچیدہ قوانین کو ختم کیا جائے۔
  • مستحکم پالیسیاں: طویل مدتی معاشی پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔

5۔ سمندر پار پاکستانیوں کے متبادل ذرائع

  • قانونی ترسیلات: بیرون ملک مقیم شہریوں کو قانونی چینلز (بینکوں) کے ذریعے رقم بھیجنے پر ترغیبات دی جائیں۔
  • بانڈز کا اجراء: اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پرکشش اور محفوظ انویسٹمنٹ سرٹیفکیٹس متعارف کروائے جائیں۔

قاضی ایم اے خالد

گلگت بلتستان الیکشن، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ 7 جون 2026 کو شیڈول ہے، جس کے باعث سیاسی درجہ حرارت اور گہما گہمی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ انتخابی مہم کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب گیند مکمل طور پر ووٹرز کے کورٹ میں ہے۔
تجزیہ کاروں اور موجودہ سیاسی صورتحال کے مطابق، یہ الیکشن کسی ایک پارٹی کے لیے واضح اکثریت لانے کے بجائے ایک مخلوط حکومت (Coalition Government) کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس کا اندازہ درج ذیل اہم عوامل اور سیاسی مساوات سے لگایا جا سکتا ہے:

1۔ آزاد امیدواروں کا بھاری پلڑا (فیصلہ کن فیکٹر)

اس بار انتخابات میں سب سے دلچسپ اور اہم بات آزاد امیدواروں کی بہت بڑی تعداد ہے۔

  • حجم: کل 403 امیدواروں میں سے 272 آزاد امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر صرف 131 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
  • اثر: گلگت بلتستان کی روایتی سیاست میں مقامی برادری، دھڑے بندی اور شخصیات پارٹی سے زیادہ اثر رکھتی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ حکومت سازی میں اصل ‘کنگ میکر’ یہی آزاد جیتنے والے ارکان ہوں گے۔

2۔ وفاق اور روایتی رجحان

گلگت بلتستان کی انتخابی تاریخ رہی ہے کہ وہاں عام طور پر وہی پارٹی حکومت بناتی ہے جو اسلام آباد (وفاق) میں برسرِاقتدار ہوتی ہے یا جسے مقتدر حلقوں کی حمایت حاصل ہو۔ اس وقت وفاق میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا اتحاد قائم ہے، جس کا اثر جی بی کے الیکشن پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

3۔ بڑی سیاسی جماعتوں کی پوزیشن

  • پاکستان پیپلز پارٹی (PPP): پی پی پی نے سب سے زیادہ 23 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی فعال مہم اور خطے میں پارٹی کے پرانے تنظیمی نیٹ ورک کی وجہ سے کئی حلقوں میں پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل دکھائی دیتی ہے۔
  • پاکستان مسلم لیگ (ن) (PML-N): مسلم لیگ (ن) 22 امیدواروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ پارٹی نے وزیر اعظم شہباز شریف اور نواز شریف کی قیادت میں پارلیمانی بورڈ کے ذریعے مضبوط امیدوار کھڑے کیے ہیں اور وفاق میں حکومت ہونے کا فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
  • پاکستان تحریک انصاف (PTI): پی ٹی آئی ماضی کی حکمران جماعت رہی ہے اور عوامی سطح پر اس کا ووٹ بینک اب بھی موجود ہے۔ تاہم، پارٹی قیادت کو مہم کے دوران یکساں مواقع (Level Playing Field) نہ ملنے اور انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت کے شدید شکوے ہیں۔ پی ٹی آئی کے امیدوار مختلف نشانات (جیسے ٹرانسفارمر وغیرہ) پر آزادانہ حیثیت میں زیادہ متحرک ہیں۔
  • دیگر جماعتیں: استحکامِ پاکستان پارٹی (IPP) نے 15 امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایم ڈبلیو ایم (MWM)، جے یو آئی (F)، جماعتِ اسلامی اور مقامی قوم پرست جماعتوں کا اتحاد بھی مخصوص حلقوں میں دیگر جماعتوں کا کھیل بگاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

4۔ اہم اضلاع اور خواتین ووٹرز کا کردار

  • کلیدی اضلاع: اسکردو، گلگت، دیامر اور غذر حکومت سازی کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر چکے ہیں کیونکہ خطے کے 62 فیصد سے زائد ووٹرز انہی علاقوں میں ہیں۔
  • خواتین ووٹرز: اس بار 4 لاکھ 56 ہزار سے زائد خواتین ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ دیامر-1 جیسے حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق ہے، جس کا مطلب ہے کہ خواتین کا ٹرن آؤٹ نتائج کو یکسر بدل سکتا ہے۔

اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

موجودہ لہر کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی ایک جماعت اپنے بل بوتے پر حکومت بناتی نظر نہیں آ رہی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بڑی جماعتوں کے طور پر ابھر سکتی ہیں، لیکن حکومت اسی کی بنے گی جو آزاد جیتنے والے امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہے گی۔ 7 جون کی شام کو بیلٹ باکس کھلنے کے بعد ہی اونٹ کی صحیح کروٹ کا حتمی فیصلہ ہوگا۔

قاضی ایم اے خالد

عالمی یوم ماحولیات


ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں "عالمی یوم ماحولیات” منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد عوام میں ماحولیاتی مسائل کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور زمین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کی ترغیب دینا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اس دن کو منانے کا سلسلہ 1974ء سے جاری ہے۔
موجودہ دور میں ہماری زمین کو بڑھتی ہوئی آلودگی، گلوبل وارمنگ، جنگلات کی کٹائی اور پلاسٹک کے بے جا استعمال جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ صنعتی ترقی اور انسانی لاپرواہی نے قدرتی توازن کو بری طرح بگاڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں موسموں میں غیر متوقع تبدیلیاں اور قدرتی آفات جنم لے رہی ہیں۔
ہر سال اس دن کے لیے ایک خاص موضوع (Theme) مقرر کیا جاتا ہے، جو کسی مخصوص ماحولیاتی چیلنج پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین ہمارا واحد گھر ہے اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ماحولیات کو بچانے کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم درج ذیل طریقوں سے اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں:
*شجرکاری:* زیادہ سے زیادہ درخت لگانا اور جنگلات کا تحفظ کرنا۔
*پلاسٹک کا خاتمہ:* یکبارگی استعمال ہونے والے پلاسٹک (Single-use plastic) کا استعمال ترک کرنا۔
*وسائل کی بچت:* پانی، بجلی اور دیگر قدرتی وسائل کو ضائع ہونے سے بچانا۔
آئیں اس عالمی یوم ماحولیات پر عہد کریں کہ ہم اپنی زمین کو صاف ستھرا، سرسبز اور محفوظ بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک صحت مند ماحول میں سانس لے سکیں۔

قاضی ایم اے خالد

مہنگائی کا جن، تخت بھی الٹا سکتا ہے۔

مہنگائی کا جن جب بے قابو ہو جائے تو وہ صرف غریب کا چولہا ہی نہیں ٹھنڈا کرتا، بلکہ بڑے بڑے حکمرانوں کے تخت بھی الٹ دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان پہنچ سے دور ہوا، تو اقتدار کے ایوانوں میں زلزلے آ گئے۔
مہنگائی کس طرح "تخت سے تختے” تک کا سفر طے کراتی ہے، اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

💥 عوامی غم و غصہ اور احتجاج

  • صبر کا پیمانہ لبریز: بنیادی ضرورتیں (بجلی، آٹا، دوا) مہنگی ہونے سے عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں۔خاص طور پر بجلی کے سبسڈی کے معاملے میں ڈیجیٹل قذاقی کے گورکھ دھندے سے عوام بپھری ہوئی ہے۔
  • امن و امان کی خرابی: شدید مہنگائی اکثر دنگا فساد اور لوٹ مار کی وجہ بنتی ہے۔
  • حکومت مخالف تحریکیں: اپوزیشن جماعتوں کو حکومت گرانے کے لیے بنا بنایا عوامی بیانیہ مل جاتا ہے۔

📉 معاشی و سیاسی عدم استحکام

  • سرمایہ کاری کا خاتمہ: کاروباری برادری کا اعتماد اٹھ جاتا ہے، جس سے معیشت مزید ڈوبتی ہے۔
  • اداروں کا دباؤ: جب معاشی بحران حد سے بڑھتا ہے تو مقتدر حلقے بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
  • ووٹ بینک کی تباہی: مہنگائی کے دور میں الیکشن کرانا حکمران جماعت کی سیاسی خودکشی بن جاتا ہے۔

🏛️ تاریخی مثالیں

  • فرانسیسی انقلاب (1789): روٹی کی قیمتوں میں اضافے نے بادشاہت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
  • عرب بہار (2010): تیونس اور مصر میں انقلاب کی بنیادی وجہ مہنگائی اور بیروزگاری تھی۔
  • حالیہ عالمی حالات: سری لنکا کا معاشی بحران اس کی سب سے تازہ مثال ہے جہاں عوام نے صدر ہاؤس پر قبضہ کر لیا تھا۔

مختصر یہ کہ جو حکومتیں معیشت اور مہنگائی کو سنبھالنے میں ناکام رہتی ہیں، وہ اپنی سیاسی بقا کی جنگ ہار جاتی ہیں۔ عوام کا پیٹ خالی ہو تو وہ نظریات نہیں، بلکہ ریلیف مانگتے ہیں۔
قاضی ایم اے خالد

تحفظ ماحولیات اور اسلامی تعلیمات

اسلامی تعلیمات میں ماحولیات کا تحفظ انسان پر ایک لازمی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر عائد کیا گیا ہے۔ اسلام کائنات کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور نشانی قرار دیتا ہے، جس میں ایک خاص توازن (Mizan) پایا جاتا ہے۔ انسان کو اس زمین پر اللہ کا "خلیفہ” (نائب) بنا کر بھیجا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زمین کے وسائل کا مالک نہیں بلکہ امین ہے اور اسے ان وسائل کو تباہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اہم اسلامی اصول اور تعلیمات درج ذیل ہیں:

1۔ کائناتی توازن کی حفاظت (Mizan)

  • اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ایک بہترین اور متوازن نظام کے تحت پیدا کیا ہے۔
  • قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اس توازن کو خراب نہ کیا جائے (سورۃ الرحمن: 7-8)۔
  • انسانی مداخلت اور لالچ ہی ماحول کی تباہی اور فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے (سورۃ الروم: 41)۔

2۔ شجرکاری اور زراعت کی حوصلہ افزائی

  • نبی کریم ﷺ نے درخت لگانے کو ایک مستقل صدقہ (صدقہ جاریہ) قرار دیا ہے۔
  • آپ ﷺ کا ارشاد ہے: "اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو، تو اگر وہ اسے لگا سکتا ہو تو لگا دے۔”
  • جنگ کے دوران بھی سرسبز درختوں کو کاٹنے اور فصلوں کو تباہ کرنے سے سخت منع کیا گیا ہے۔

3۔ صفائی اور پاکیزگی کا حکم

  • اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے، جو ماحولیاتی پاکیزگی کی بنیاد ہے۔
  • عام راستوں، سایہ دار جگہوں اور پانی کے ذخائر (نہروں، کنوؤں) میں گندگی پھیلانے سے سخت روکا گیا ہے۔
  • ماحول کو صاف رکھنا نہ صرف صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ایک عبادت بھی ہے۔

4۔ وسائل کا درست استعمال اور اسراف سے پرہیز

  • اسلام پانی، بجلی اور دیگر قدرتی وسائل کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے یا ضائع کرنے (اسراف) کی اجازت نہیں دیتا۔
  • رسول اللہ ﷺ نے وضو کے دوران بھی پانی کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے سے منع فرمایا، چاہے انسان بہتی ہوئی ندی کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھا ہو۔
  • قرآن مجید کے مطابق فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں (سورۃ الاسراء: 27)۔

5۔ جانداروں اور جنگلی حیات کا تحفظ

  • پرندوں اور جانوروں کے ساتھ نرمی کا سلوک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
  • بلاوجہ جانوروں کا شکار کرنے یا ان کے ٹھکانوں (درختوں اور بلوں) کو برباد کرنے کی ممانعت ہے۔
  • رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی بستی قائم فرمائی تھی جہاں شکار کرنے اور درخت کاٹنے پر پابندی تھی (جسے ‘حرم’ کہا جاتا ہے)۔

خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں

خوشی ایک ایسی انمول نعمت ہے جو بانٹنے سے کم نہیں بلکہ بڑھتی ہے۔ انسان کی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے، جہاں کبھی دھوپ ہے تو کبھی چھاؤں۔ لیکن اصل کمال یہ ہے کہ انسان ہر حال میں مطمئن رہے اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں میں بھی رنگ بھرنے کی کوشش کرے۔

خوشی کا مفہوم

خوشی محض ہنسنے یا قہقہہ لگانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک اندرونی اطمینان کی کیفیت ہے۔ جب ہم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، تو قدرت ہمیں وہ سکون عطا کرتی ہے جو دنیا کی کسی مادی چیز سے حاصل نہیں ہو سکتا۔

خوشیاں بانٹنے کے طریقے

خوشیاں بانٹنے کے لیے کسی بڑی دولت یا جائیداد کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بڑی بڑی خوشیوں کا باعث بن سکتی ہیں:

  • مسکراہٹ: کسی کو دیکھ کر مسکرانا بھی صدقہ ہے اور یہ دوسرے کے دل میں آپ کی جگہ بنا دیتا ہے۔
  • نرم گفتگو: الفاظ میں مٹھاس اور لہجے میں عاجزی دوسروں کے دکھوں کا مداوا بن سکتی ہے۔
  • مدد کرنا: کسی مجبور کی مدد کرنا، چاہے وہ مالی ہو یا اخلاقی، اصل خوشی کا ذریعہ ہے۔
  • شکر گزاری: دوسروں کا شکریہ ادا کرنا اور ان کی محنت کی قدر کرنا معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔

معاشرتی اثرات

اگر ہر شخص "خوش رہیں اور خوش رہنے دیں” کے اصول پر عمل کرے، تو حسد، بغض اور نفرت جیسی بیماریوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ محبت وہ پھول ہے جس کی مہک پورے معاشرے کو معطر کر دیتی ہے۔


یاد رکھیں کہ جو چیز ہم تقسیم کرتے ہیں، وہ پلٹ کر ہمارے پاس ضرور آتی ہے۔چاہے وہ رزق ہو، عزت ہو یا خوشی ۔ لہٰذا، اپنی ذات تک محدود رہنے کے بجائے دوسروں کے کام آئیں، کیونکہ انسانیت کی معراج دوسروں کو خوشی فراہم کرنے میں ہی ہے۔

قاضی ایم اے خالد

نائب وزیراعظم پاکستان کا دورہ امریکہ مکمل

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا دورہ امریکہ مکمل ہو گیا ہے، جس کا آخری مرحلہ واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ایک انتہائی اہم ملاقات پر اختتام پذیر ہوا۔
اس دورے کے دوران ہونے والی اہم ملاقاتوں اور بات چیت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات

نائب وزیراعظم نے نیویارک میں اپنی مصروفیات مکمل کرنے کے بعد واشنگٹن ڈی سی کا ایک روزہ دورہ کیا:

  • اہم مذاکرات: اسحاق ڈار نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، اور کاؤنٹر ٹیررازم (انسدادِ دہشت گردی) جیسے ترجیحی شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
  • امریکہ-ایران جنگ کی ثالثی: ملاقات کا ایک بڑا ایجنڈا امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے علاقائی امن و استحکام اور خصوصاً ایران کے معاملے پر پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری ثالثی کردار کو سراہا۔

نیویارک میں مصروفیات (پہلا مرحلہ)

واشنگٹن روانگی سے قبل نائب وزیراعظم نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ (UN) کے ہیڈ کوارٹر میں پاکستان کی نمائندگی کی:

  • اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کا اجلاس: انہوں نے سلامتی کونسل (UNSC) کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی اور عالمی امن و سلامتی سمیت اہم بین الاقوامی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
  • سیکریٹری جنرل سے ملاقات: اسحاق ڈار نے یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، مقبوضہ جموں و کشمیر، افغانستان اور فلسطین کے امور زیرِ بحث آئے۔

دورے کے دیگر اہم نکات

  • تھنک ٹینک سے خطاب: نائب وزیراعظم نے امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل میں بھی خطاب کیا، جہاں انہوں نے پاک-امریکہ تعلقات کے مستقبل اور علاقائی سلامتی پر پاکستان کا نقطہ نظر بیان کیا۔
  • تجارتی وفد: دورے کے دوران ایک علیحدہ پاکستانی وفد نے بھی واشنگٹن میں تجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت کی، جس میں امریکہ سے کپاس اور سویا بین کی درآمدات بڑھانے کی پیشکش شامل تھی۔

دفترِ خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار واشنگٹن میں اپنی تمام تر سفارتی مصروفیات اور ملاقاتیں کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

قاضی ایم اے خالد

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں