
امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا باضابطہ اعلان 15 جون 2026 کو کیا گیا۔ طویل اور پیچیدہ سفارتی کوششوں کے بعد ہونے والے اس معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔
اس معاہدے کی بنیادی تفصیلات، اہم نکات اور عالمی ردِعمل درج ذیل ہے:
معاہدے کے اہم نکات
- فوجی کارروائیوں کا خاتمہ: دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
- بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تصدیق کی ہے تاکہ تیل کی عالمی سپلائی بحال ہو سکے۔
- منجمد اثاثے اور مذاکرات: معاہدے کے تحت ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور 60 روزہ اسٹریٹجک مذاکرات کا فریم ورک شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان اور دیگر ممالک کا ثالثی کردار
- پاکستان کا کلیدی کردار: اس تاریخی معاہدے کو ممکن بنانے میں پاکستان نے بنیادی ثالث کا کردار ادا کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کی سفارت کاری کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
- دیگر ثالث ممالک: پاکستان کے علاوہ قطر (جس کے وفد نے تہران میں 15 گھنٹے طویل مذاکرات کیے)، سعودی عرب، ترکی اور چین نے بھی اس عمل میں اہم سفارتی تعاون فراہم کیا۔
عالمی ردِعمل
- امریکی قیادت: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اس کی تصدیق کی۔
- ایرانی قیادت: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی حکومت نے آخری نکات پر طویل بحث کے بعد اس مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا۔
- بین الاقوامی پزیرائی: سعودی عرب، یورپی یونین، چین، برطانیہ، کینیڈا اور نیدر لینڈز سمیت دنیا بھر کے ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر ثالثوں کی تعریف کی ہے۔
- اسرائیلی تحفظات: دوسری جانب، اسرائیلی وزیر خزانہ جیسے حکام نے اس معاہدے کو اسرائیل کے مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
قاضی ایم اے خالد












