
کوکین کو "وی آئی پی نشہ” اور "جھوٹی خوشی” کا ذریعہ کہنا بالکل درست اور تلخ حقیقت ہے، کیونکہ یہ اشرافیہ اور امیر طبقے میں اپنی مہنگی قیمت کی وجہ سے مقبول ہے اور دماغ کو عارضی طور پر دھوکہ دے کر مصنوعی سکون اور جھوٹی خوشی فراہم کرتا ہے۔
کوکین کی حقیقت اور اس کے انسانی صحت و معاشرے پر اثرات کو درج ذیل اہم نکات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ یہ "وی آئی پی” نشہ کیوں کہلاتا ہے؟
- انتہائی مہنگی قیمت: یہ عام منشیات کے مقابلے میں بہت زیادہ مہنگی ہوتی ہے، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایک گرام کوکین 25000 روپے کی ہے اسی لیے اسے صرف امراء، سیاست دان،کاروباری شخصیات، اور شوبز یا فیشن انڈسٹری سے جڑے لوگ اور دیگر بااثر افراد ہی خرید سکتے ہیں۔
- اسٹیٹس سمبل (اعلیٰ طبقے کی علامت): اشرافیہ کے بعض حلقوں اور مخصوص "وی آئی پی” پارٹیوں میں اسے امارت اور اونچے طبقے سے تعلق کی علامت یعنی اسٹیٹس سمبل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
2۔ "جھوٹی خوشی” کا سراب
- مصنوعی ڈوپامائن (Dopamine): کوکین دماغ میں ‘ڈوپامائن’ نامی کیمیکل کی مقدار کو اچانک بڑھا دیتی ہے، جس سے انسان کو عارضی طور پر انتہائی خوشی، توانائی اور خود اعتمادی کا احساس (Euphoria) ہوتا ہے۔
- کچھ منٹوں کا دھوکہ: یہ اثر صرف 15 سے 30 منٹ تک رہتا ہے۔ جیسے ہی نشہ اترتا ہے، انسان شدید ڈپریشن، مایوسی اور چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتا ہے جسے طبی زبان میں "کیمیکل کریش” کہتے ہیں۔
- دماغی دھوکہ دہی: یہ خوشی حقیقی نہیں ہوتی بلکہ دماغ کے نظام کو زبردستی اور مصنوعی طریقے سے بگاڑ کر حاصل کی جاتی ہے۔
3۔ جسمانی اور دماغی نقصانات
- شدید لت (Addiction): کوکین کی لت بہت تیزی سے لگتی ہے۔ انسان پہلی بار کی خوشی کو دوبارہ پانے کے لیے بار بار اسے استعمال کرتا ہے اور جلد ہی اس کا غلام بن جاتا ہے۔
- دل کا دورہ (Heart Attack): یہ دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو خطرناک حد تک بڑھا دیتی ہے، جس سے کم عمر لوگوں میں بھی اچانک ہارٹ اٹیک یا برین ہیمرج کا سنگین خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
- نفسیاتی بیماریاں: مسلسل استعمال سے انسان وہم (Paranoia)، خوف، اور ذہنی توازن کھونے (Psychosis) جیسی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔بعض اوقات مانیا کے دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔
4۔ سماجی اور معاشی بربادی
- معاشی زوال: اس کی شدید طلب کو پورا کرنے کے لیے لوگ کروڑوں روپے کے اثاثے، کاروبار اور جائیدادیں تک داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
- جرائم کا گڑھ: چونکہ یہ ایک غیر قانونی اور اسمگل شدہ منشیات ہے، اس لیے اس کا کاروبار کرنے والے مافیاز اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے جڑے ہوتے ہیں، جو معاشرے کے امن کو تباہ کرتے ہیں۔کوکین کا نشہ کرنے والے بھی جانے انجانے میں اس خطرناک ڈرگ نیٹ ورک کا حصہ بن جاتے ہیں اور سنگین جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔
کوکین بظاہر چمک دمک اور وی آئی پی لائف اسٹائل کا حصہ نظر آتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ زندگی کو اندر سے کھوکھلا کر دینے والا ایک ایسا اندھیرا راستہ ہے جس کا انجام صرف صحت کی بربادی، ذہنی اکیلا پن، اور موت ہے۔
قاضی ایم اے خالد






















