کوکین ۔ امیر طبقے کا نشہ

کوکین کو "وی آئی پی نشہ” اور "جھوٹی خوشی” کا ذریعہ کہنا بالکل درست اور تلخ حقیقت ہے، کیونکہ یہ اشرافیہ اور امیر طبقے میں اپنی مہنگی قیمت کی وجہ سے مقبول ہے اور دماغ کو عارضی طور پر دھوکہ دے کر مصنوعی سکون اور جھوٹی خوشی فراہم کرتا ہے۔
کوکین کی حقیقت اور اس کے انسانی صحت و معاشرے پر اثرات کو درج ذیل اہم نکات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے:

1۔ یہ "وی آئی پی” نشہ کیوں کہلاتا ہے؟

  • انتہائی مہنگی قیمت: یہ عام منشیات کے مقابلے میں بہت زیادہ مہنگی ہوتی ہے، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایک گرام کوکین 25000 روپے کی ہے اسی لیے اسے صرف امراء، سیاست دان،کاروباری شخصیات، اور شوبز یا فیشن انڈسٹری سے جڑے لوگ اور دیگر بااثر افراد ہی خرید سکتے ہیں۔
  • اسٹیٹس سمبل (اعلیٰ طبقے کی علامت): اشرافیہ کے بعض حلقوں اور مخصوص "وی آئی پی” پارٹیوں میں اسے امارت اور اونچے طبقے سے تعلق کی علامت یعنی اسٹیٹس سمبل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

2۔ "جھوٹی خوشی” کا سراب

  • مصنوعی ڈوپامائن (Dopamine): کوکین دماغ میں ‘ڈوپامائن’ نامی کیمیکل کی مقدار کو اچانک بڑھا دیتی ہے، جس سے انسان کو عارضی طور پر انتہائی خوشی، توانائی اور خود اعتمادی کا احساس (Euphoria) ہوتا ہے۔
  • کچھ منٹوں کا دھوکہ: یہ اثر صرف 15 سے 30 منٹ تک رہتا ہے۔ جیسے ہی نشہ اترتا ہے، انسان شدید ڈپریشن، مایوسی اور چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتا ہے جسے طبی زبان میں "کیمیکل کریش” کہتے ہیں۔
  • دماغی دھوکہ دہی: یہ خوشی حقیقی نہیں ہوتی بلکہ دماغ کے نظام کو زبردستی اور مصنوعی طریقے سے بگاڑ کر حاصل کی جاتی ہے۔

3۔ جسمانی اور دماغی نقصانات

  • شدید لت (Addiction): کوکین کی لت بہت تیزی سے لگتی ہے۔ انسان پہلی بار کی خوشی کو دوبارہ پانے کے لیے بار بار اسے استعمال کرتا ہے اور جلد ہی اس کا غلام بن جاتا ہے۔
  • دل کا دورہ (Heart Attack): یہ دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو خطرناک حد تک بڑھا دیتی ہے، جس سے کم عمر لوگوں میں بھی اچانک ہارٹ اٹیک یا برین ہیمرج کا سنگین خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
  • نفسیاتی بیماریاں: مسلسل استعمال سے انسان وہم (Paranoia)، خوف، اور ذہنی توازن کھونے (Psychosis) جیسی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔بعض اوقات مانیا کے دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔

4۔ سماجی اور معاشی بربادی

  • معاشی زوال: اس کی شدید طلب کو پورا کرنے کے لیے لوگ کروڑوں روپے کے اثاثے، کاروبار اور جائیدادیں تک داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
  • جرائم کا گڑھ: چونکہ یہ ایک غیر قانونی اور اسمگل شدہ منشیات ہے، اس لیے اس کا کاروبار کرنے والے مافیاز اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے جڑے ہوتے ہیں، جو معاشرے کے امن کو تباہ کرتے ہیں۔کوکین کا نشہ کرنے والے بھی جانے انجانے میں اس خطرناک ڈرگ نیٹ ورک کا حصہ بن جاتے ہیں اور سنگین جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔


کوکین بظاہر چمک دمک اور وی آئی پی لائف اسٹائل کا حصہ نظر آتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ زندگی کو اندر سے کھوکھلا کر دینے والا ایک ایسا اندھیرا راستہ ہے جس کا انجام صرف صحت کی بربادی، ذہنی اکیلا پن، اور موت ہے۔

قاضی ایم اے خالد

لاہور عجائب گھر ۔ ہزاروں ، لاکھوں سال پچھلے دور میں لے جانے والی ٹائم مشین

لاہور میوزیم

‎لاہور عجائب گھر (لاہور میوزیم) پاکستان کا سب سے بڑا، قدیم ترین اور تاریخی نوادرات کا سب سے معتبر میوزیم ہے۔ یہ تاریخی عمارت لاہور کی مشہور شاہراہ، شاہراہِ قائد اعظم (دی مال روڈ) پر پنجاب یونیورسٹی کے پرانے کیمپس کے بالمقابل واقع ہے۔

‎لاہور میوزیم لاکھوں سال پرانی تہذیب اور ثقافت کا مرکز ہے، یہ میوزیم ایک طرح کی ٹائم مشین ہے جو انسان کو ہزاروں، لاکھوں سال پیچھے اس دور میں لے جاتی ہے جب انسان پتھر کے دور میں رہتا تھا

میوزیم کا اندرونی منظر


‎تاریخ اور طرزِ تعمیر

‎* بنیاد: یہ میوزیم سب سے پہلے 1865ء میں ٹولنٹن مارکیٹ کی جگہ قائم ہوا اور بعد میں 1894ء میں موجودہ عمارت میں منتقل کیا گیا۔
‎* آرکیٹیکچر: اس کی خوبصورت لال اینٹوں والی عمارت مغل اور برطانوی نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کا ایک منفرد شاہکار ہے۔
‎* ڈیزائنرز: اس عمارت کو مشہور ماہرِ تعمیرات سر گنگا رام اور بھائی رام سنگھ نے ڈیزائن کیا تھا۔

نواسہ و نواسی قاضی ایم اے خالد ملکہ وکٹوریہ کے اسٹیچو کے ساتھ لاہور میوزیم میں


اہم نوادرات اور گیلریاں
‎میوزیم کے اندر تقریباً 60,000 سے زائد تاریخی اشیاء محفوظ ہیں، جو پتھر کے دور سے لے کر جدید دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے مشہور درج ذیل ہیں:

‎* فاسٹنگ بدھا (Fasting Buddha): گندھارا تہذیب کا دنیا بھر میں مشہور دوسری صدی کا نایاب مجسمہ۔
‎* اسلامی اور مغل عہد: مغل اور سکھ دور کے ہتھیار، پرانے زمانے کے برتن، نایاب خطاطی، کپڑے اور قالین۔
‎* قدیم سِکے اور مہریں: وادیٔ سندھ کی تہذیب کی مہریں اور مختلف بادشاہوں کے دور کے نایاب سِکے۔
‎* تحریکِ پاکستان گیلری: پاکستان بننے کی جدوجہد کی یادگار تصاویر اور دستاویزات پر مبنی خصوصی گوشہ

Kim’s Gun


‎* زمزمہ توپ: میوزیم کی عمارت کے بالکل باہر سامنے سڑک کے بیچوں بیچ تاریخی "زمزمہ توپ” (Kim’s Gun) بھی موجود ہے۔

اوقاتِ کار  (2026ء)

‎* اوقات: گرمیوں کے موسم میں میوزیم صبح 9:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک کھلا رہتا ہے۔
‎* تعطیل: یہ میوزیم ہر جمعہ کو بند ہوتا ہے۔
‎* مفت گائیڈڈ ٹور: میوزیم انتظامیہ کی طرف سے روزانہ مختلف اوقات (جیسے 10:30، 12:00، 2:00 اور 3:00 بجے) پر بالکل مفت گائیڈڈ ٹور فراہم کیا جاتا ہے تاکہ سیاح تاریخ کو بہتر سمجھ سکیں۔

‎اس وقت حکومتِ پنجاب کے ایک خصوصی منصوبے کے تحت لاہور میوزیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مزید اپ گریڈ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ یہاں آنے والوں کو مزید بہتر ڈیجیٹل اور جدید سہولیات میسر آ سکیں۔

‎قاضی ایم اے خالد

میوزیم کا اندرونی منظر

آذربائیجان کے وزیر انصاف کا دورہ پاکستان

‎جمہوریہ آذربائیجان کے وزیرِ انصاف فرید تراب اوغلو احمدوف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔
‎اس اہم سفارتی دورے کی اہم تفصیلات اور ملاقاتیں درج ذیل ہیں:
‎## اہم ملاقاتیں اور مصروفیات

‎* وزیرِ اعظم پاکستان سے ملاقات: وزیرِ انصاف فرید احمدوف نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔ آذربائیجانی وزیر نے پاکستان کی روایتی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔
‎* وزارتِ قانون و انصاف کا دورہ: انہوں نے پاکستان کی وزارتِ قانون کا دورہ کیا اور وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ سے تفصیلی ملاقات کی۔
‎* "میڈل فار جسٹس” کا اعزاز: دورے کے دوران آذربائیجان کے وزیرِ انصاف نے پاکستان کے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کو آذربائیجان کے تاریخی اور معزز اعزاز "میڈل فار جسٹس” سے نوازا۔
‎* عدالتی نظام پر گفتگو: وفد نے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے نظام، قانونی اصلاحات اور دونوں ممالک کے قانونی اداروں کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دینے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

‎## دورے کا پس منظر اور اہمیت

‎* یہ دورہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کا تسلسل ہے،  12 مئی 2026 کو وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علییوف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا۔
‎* اس دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مابین عدالتی نظام، قانون سازی، اور قانونی شعبوں میں ادارہ جاتی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے۔

‎قاضی ایم اے خالد

امریکی صدر کا دورہ چین مکمل

‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا  دورہ چین  (جمعہ، 15 مئی 2026) کو مکمل ہو گیا ہے۔ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔وائٹ ہاؤس اور چینی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ مینوفیکچرڈ شیڈول اور رپورٹس کے مطابق اس آخری دن کی اہم مصروفیات درج ذیل رہیں: 
‎تیسرے روز کی سرگرمیاں:

‎* دوسری ون ٹو ون ملاقات: صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان تیسرے روز دوسری اہم ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔
‎* چائے کی نشست اور ورکنگ لنچ: دونوں رہنماؤں نے خصوصی چائے کی نشست میں حصہ لیا اور ورکنگ لنچ پر اہم امور کو آگے بڑھایا۔
‎* کاروباری معاہدوں کو حتمی شکل: امریکی وفد (جس میں ایلون مسک اور دیگر کمپنیوں کے سی ای اوز شامل تھے) کے کاروباری اور تجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی۔

سفارتی تحائف اور خفیہ ملاقاتیں

  * خفیہ باغ کا دورہ: امریکہ روانگی سے ٹھیک قبل صدر  ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ایک انتہائی نایاب اور خفیہ باغ ژونگ نان ہائی میں غیر رسمی ملاقات کا انکشاف ہوا ہے۔ژونگ نان ہائی کبھی شاہی باغ ہوا کرتا تھا جو آج چینی کمیونسٹ پارٹی اور حکومتی دفاتر کا مرکز ہے، یہ مقام ممنوعہ شہر اور تیان آن من اسکوائر کے قریب واقع ہے۔

  * چینی گلاب کے بیج: چینی صدر شی جن پنگ نے دیگر تحائف کے ساتھ صدر   ٹرمپ کو "نئے دو طرفہ تعلقات” کی علامت کے طور پر چینی گلابوں کے بیج بطور تحفہ دینے کا وعدہ بھی کیا۔

‎* واشنگٹن واپسی: تمام سفارتی اور اسٹریٹجک سرگرمیاں مکمل کرنے کے بعد صدر ٹرمپ بیجنگ سے واشنگٹن کے لیے روانہ ہو گئے۔ 

‎دورے کے مجموعی احوال اور اہم موضوعات:

‎* یہ دورہ 13 مئی سے 15 مئی 2026 تک جاری رہا، جہاں بیجنگ ایئرپورٹ پر ٹرمپ کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا تھا۔
‎* ملاقاتوں میں ایران کی صورتحال، تجارتی کشیدگی، عالمی معیشت، تائیوان اور نایاب معدنیات (Rare Earth Elements) جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
‎* چینی صدر شی جن پنگ نے دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو مخالفت کے بجائے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔

‎قاضی ایم اے خالد

خفیہ باغ ژونگ نان ہائی میں ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ

وزیراعظم سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات

‎وزیر اعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ ٹیکنالوجی کے بانی اور صدر چیان شیاؤ جون کی قیادت میں 11 رکنی اعلیٰ سطح چینی کاروباری وفد نے ملاقات کی ہے۔
‎ملاقات کی اہم تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

‎* ڈیجیٹل اکانومی ہیڈ کوارٹر: وزیر اعظم نے آئی بی آئی (IBI) گروپ کے پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈ کوارٹر قائم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
‎* سرمایہ کاری کا نظام: شہباز شریف نے وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان ایک پائیدار، شفاف اور سہولیات پر مبنی سرمایہ کاری کے نظام پر عمل پیرا ہے۔
‎* ایس آئی ایف سی کا کردار: سرمایہ کاروں کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے ذریعے ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
‎* مشترکہ منصوبے: وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے مابین جوائنٹ وینچرز پر زور دیا تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور برآمدات بڑھیں۔
‎* چینی قیادت کی تعریف: وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت میں چین کی شاندار ترقی کو سراہا۔

‎یہ ملاقات وزیر اعظم کے متوقع دورہ چین سے پہلے ہوئی ہے، جو 23 سے 25 مئی کے دوران شیڈول ہے۔

‎قاضی ایم اے خالد


وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات

ٹریفک وارڈنز کا نفسیاتی معائنہ کروانے کا احسن فیصلہ

پنجاب حکومت کی طرف سے ٹریفک وارڈنز کا نفسیاتی چیک اپ Psychological Checkup  کروانے کا فیصلہ ایک انتہائی مثبت اور بروقت اقدام ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف سڑکوں پر وارڈنز کے رویے میں بہتری آئے گی بلکہ شہریوں اور پولیس کے درمیان رابطے مضبوط ہوں گے۔
## اس اقدام کی اہمیت اور فوائد

* دباؤ کا خاتمہ: ٹریفک وارڈنز شدید گرمی، آلودگی اور ٹریفک کے دباؤ میں طویل ڈیوٹی کرتے ہیں۔ نفسیاتی چیک اپ سے ان کے ذہنی تناؤ کی بروقت تشخیص و علاج ممکن ہوگا۔
* عوامی رویوں میں بہتری: ذہنی طور پر پرسکون وارڈنز شہریوں کے ساتھ زیادہ خوش اخلاقی اور تحمل مزاجی سے پیش آسکیں گے۔
* صحیح فیصلے کی صلاحیت: سڑکوں پر حادثات یا ہنگامی صورتحال کے دوران وارڈنز دباؤ کا شکار ہوئے بغیر بہتر اور فوری فیصلے کر سکیں گے۔
* محکمے کی کارکردگی: ملازمین کی ذہنی صحت کا خیال رکھنے سے پنجاب پولیس اور ٹریفک وارڈن سروس کی مجموعی کارکردگی اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔

##  اس فیصلے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تجاویز

* باقاعدگی: یہ چیک اپ صرف ایک بار کے بجائے ہر چھ ماہ بعد لازمی قرار دیا جائے۔
* کونسلنگ سیشنز: جن وارڈنز میں شدید  غصہ اور تناؤ پایا جائے، انہیں ماہرِ نفسیات سے علاج، کونسلنگ اور تھراپی کی سہولت دی جائے۔
* ڈیوٹی کے اوقات: ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے شفٹوں کے اوقات کار کو متوازن اور انسانی بنیادوں پر ترتیب دیا جائے۔
* آرام کے مواقع: شدید موسم (جیسے گرمی کی لہر یا اسموگ) کے دوران وارڈنز کے لیے سڑکوں پر سایہ دار جگہوں اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ گرمی کی شدت سے انہیں زیادہ غصہ اور تناؤ محسوس نہ ہو۔

قاضی ایم اے خالد

انمول پنکی ڈرگ نیٹ ورک بے نقاب

کراچی پولیس اور حساس اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ملک میں کوکین کی سپلائی کرنے والی سب سے بڑی سرغنہ انمول عرف "پنکی” کو گرفتار کر کے اس کا بااثر منشیات نیٹ ورک بے نقاب کر دیا ہے۔
اس ہائی پروفائل کیس اور اس کے نیٹ ورک کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

گرفتاری اور برآمدگی

  • مشترکہ کارروائی: گارڈن پولیس اور حساس ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو کراچی سے گرفتار کیا۔
  • برآمد شدہ مواد: ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز، پستول اور راؤنڈز برآمد ہوئے۔
  • مفرور ملزمہ: انمول عرف پنکی متعدد مقدمات میں مفرور تھی اور اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) سمیت دیگر اداروں کو انتہائی مطلوب تھی۔
  • ملزمہ انمول پنکی کا ڈرگ نیٹ ورک اور طریقہ واردات
  • کوکین میکر: میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمہ پاکستان کی مہنگی ترین کوکین خود تیار کرتی تھی اور اسے ایک "چلتی پھرتی کوکین لیبارٹری” قرار دیا گیا ہے۔
  • قیمت: دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی۔
  • خواتین رائیڈرز کا استعمال: قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شک سے بچنے کے لیے یہ نیٹ ورک منشیات کی آن لائن ترسیل کے لیے خصوصی طور پر خواتین رائیڈرز کا استعمال کرتا تھا۔
  • صارفین (گاہک): اس نیٹ ورک کے خریداروں میں تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات، پوش علاقوں کے رہائشی اور کئی اہم و بااثر شخصیات شامل ہیں۔
  • نیٹ ورک کا پھیلاؤ: یہ نیٹ ورک کراچی کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد تک پھیلا ہوا تھا۔

پولیس اور بااثر شخصیات کا گٹھ جوڑ (سنسنی خیز انکشافات)

  • پولیس اہلکاروں کی شمولیت: تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گینگ میں کامران نامی ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا جو منشیات کی سپلائی کا کام کرتا تھا۔
  • رشوت اور پشت پناہی کے دعوے: دورانِ تفتیش ملزمہ نے مبینہ طور پر پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ دینے کا دعویٰ بھی کیا ہے جس سے ڈرگ نیٹ ورک کی بااثر شخصیات اور پولیس کی پشت پناہی کا شبہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔شنید ہے کہ اس کے تانے بانے سندھ اور پنجاب سمیت پورے پاکستان میں جا ملتے ہیں۔
  • سابق انسپکٹر سے تعلقات: رپورٹس کے مطابق حراست کے دوران ملزمہ کے ایک سابق پولیس انسپکٹر کے ساتھ تعلقات اور دیگر ترسیلی روابط کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
  • پولیس کے خلاف وی آئی پی پروٹوکول پر ایکشن: ملزمہ انمول پنکی کو کراچی کی عدالت میں بغیر ہتھکڑی کے وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔عدالت پیشی کے دوران اسے شاہانہ پروٹوکول دینے پر دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
  • غلط ایڈریس کا تنازع: کراچی پولیس نے کیس کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر انمول پنکی کا غلط ایڈریس درج کرنے پر  معذرت بھی کی ہے۔

سنسنی خیز انکشافات: ملزمہ کے مطابق اس سے 700 سے 800 افراد کوکین خریدتے تھے جن میں اہم سیاستدان اور شوبز اسٹارز شامل ہیں.حساس اداروں کی تحقیقات کے دوران ملزمہ نے مبینہ طور پر کوکین استعمال کرنے والی شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام حکام کو بتا دیے ہیں. انمول پنکی کا ڈرگ گینگ کراچی کے پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں میں بھی سرگرم تھا اور صرف کراچی میں دو کروڑ ماہانہ کی کوکین فروخت کر رہا تھا۔

عدالت نے ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ منظور کر کے پولیس کے حوالے کر دیا ہے تاکہ نیٹ ورک کے باقی ارکان اور اس کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا سکے۔

سینٹ اور انمول پنکی کا معاملہ

یہ معاملہ پاکستان کی سینیٹ تک پہنچ گیا ہے۔ سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نے حکام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمہ سے رابطے میں رہنے والے تمام بااثر سیاستدانوں اور دیگر افراد کے نام پبلک کیے جائیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ملک کی بڑی مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک اور اس کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یہ ایکشن انمول پنکی کے لاہور سے جڑے منشیات کے مبینہ نیٹ ورک کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد لیا گیا ہے۔
کیس اور حکومتی ایکشن سے متعلق اہم ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:

وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایکشن اور ہدایات

  • تفصیلات طلب: وزیر اعلیٰ مریم نواز نے خفیہ ادارے اور اعلیٰ پولیس حکام سے ملزمہ کے نیٹ ورک سے لے کر لاہور میں درج مقدمے تک کی تمام تفصیلات مانگ لی ہیں۔
  • لاہور منتقلی کی تیاری: تفتیشی ذرائع (سی سی ڈی لاہور) کے مطابق، لاہور کے مقدمے میں انمول پنکی کی باقاعدہ طلبی کر کے اسے کراچی سے لاہور لانے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔
  • پنجاب پولیس کی انکوائری: اطلاعات کے مطابق اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ملزمہ کو ماضی میں پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا تھا۔

قاضی ایم اے خالد

ٹرمپ ان چائنہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کا دوسرا روز (14 مئی 2026) بیجنگ میں انتہائی اہم سفارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کے ساتھ جاری ہے۔
دورے کے دوسرے روز کی اہم ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:

شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی اہم ملاقات

  • مذاکرات کا انعقاد: بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپلز میں دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل ملاقات ہوئی، جو متوقع وقت سے زیادہ (تقریباً دو گھنٹے) جاری رہی۔
  • شراکت داری پر زور: چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تجارتی جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی۔
  • ٹرمپ کا موقف: امریکی صدر نے صدر شی سے ملاقات کو اپنے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا اور ابتدائی مذاکرات کو بہترین کہا۔

تائیوان اور ایران کے معاملات پر بات چیت

  • تائیوان پر چین کی وارننگ: چینی صدر نے تائیوان کے معاملے کو  تعلقات کا سب سے حساس مسئلہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس پر کسی بھی غلطی کی صورت میں دونوں ممالک میں براہِ راست تصادم ہو سکتا ہے۔
  • ایران اور عالمی بحران: مذاکرات میں ایران کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ امریکی وفد کی کوشش ہے کہ چین ایران سے تیل کی خریداری کم کرنے کے لیے تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھائے۔

ہائی پروفائل امریکی کاروباری وفد کی شرکت

صدر ٹرمپ کے ہمراہ دنیا کی مایہ ناز ٹیکنالوجی اور معاشی کمپنیوں کے سربراہان بھی بیجنگ میں موجود ہیں جن میں شامل ہیں:

  • ایلون مسک (ٹیسلا اور سپیس ایکس)
  • ٹم کُک (ایپل)
  • جینسن ہوانگ (اینویڈیا)
  • سٹیفن شوارزمان (بلیک سٹون)

ثقافتی سرگرمیاں

  • باضابطہ مذاکرات کے بعد دونوں صدور نے بیجنگ کے تاریخی مقام ٹیمپپل آف ہیون (Temple of Heaven) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گائیڈ سے بریفنگ لی اور تصاویر بھی بنوائیں۔

یہ دورہ 15 مئی تک جاری رہے گا جس میں مزید اہم معاشی اور تجارتی معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

قاضی ایم اے خالد

امریکی صدر کا دورہ چین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 مئی 2026 کو اپنے تین روزہ سرکاری دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ان کا تاریخی استقبال کیا گیا لیکن استقبال میں کوئی بڑی چینی شخصیت  موجود نہیں تھی۔ صدر ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی سربراہی ملاقات کریں گے۔ نو سال بعد کسی بھی امریکی صدر کا یہ پہلا دورۂ چین ہے، جس کا مقصد دونوں عالمی سپر پاورز کے درمیان جاری شدید تجارتی اور سفارتی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

دورے کی اہم تفصیلات اور ایجنڈا

  • بڑے کاروباری وفد کی شرکت: صدر ٹرمپ کے ہمراہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کے سربراہان چین پہنچے ہیں، جن میں ٹیسلا کے ایلون مسک اور ایپل کے ٹم کک شامل ہیں۔
  • تجارتی معاہدوں پر توجہ: ٹرمپ بیجنگ کے ساتھ ایسے اقتصادی معاہدے کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت چین زیادہ مقدار میں امریکی زرعی مصنوعات، خوراک اور طیارے خریدے۔
  • تائیوان کا تنازع: امریکی انتظامیہ کی جانب سے تائیوان کے لیے منظور کیے گئے 11 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے پیکیج پر گفتگو ایجنڈے میں سرفہرست ہے، جس پر بیجنگ سخت ناراض ہے۔
  • چین کی ‘ریڈ لائنز’: ٹرمپ کی آمد سے قبل چینی حکومت نے تائیوان سمیت اپنے بنیادی مفادات پر مبنی 4 ‘ریڈ لائنز’ واضح کر کے امریکہ کو خبردار کیا ہے۔
  • مشرقِ وسطیٰ اور ایران کا معاملہ: یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتیں شدید متاثر ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق چین اس بات پر خوش ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز مستقل بنیادوں پر کھلوانے کے اقدامات کر رہا ہے۔

یہ دورہ اہم ترین سفارتی ملاقاتوں کے بعد آئندہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون یا ممکنہ تصادم کی نئی سمت کا تعین کرے گا۔

قاضی ایم اے خالد

اچھرہ ، رانی اچھراں اور پورن بھگت

لاہور کے تاریخی علاقے اچھرہ کا نام عام طور پر ہندو رانی اچھراں سے منسوب کیا جاتا ہے، رانی اچھراں کا تذکرہ قدیم لوک داستانوں میں ملتا ہے۔
اس حوالے سے اہم معلومات درج ذیل  ہیں:

* رانی اچھراں: روایت کے مطابق، رانی اچھراں راجہ سالباہن کی اہلیہ اور مشہور لوک داستان کے کردار پورن بھگت کی والدہ تھیں۔
* وجہ تسمیہ: کہا جاتا ہے کہ جب رانی اچھراں اور ان کے بیٹے پورن بھگت کو لاہور کے قریب ایک ویران مقام پر بن باس (جلاوطن) کر دیا گیا، تو جس جگہ رانی نے قیام کیا اسے ان کے نام کی مناسبت سے اچھرہ کہا جانے لگا۔
* تاریخی پس منظر: بعض محققین کی تحقیقات کے مطابق اچھرہ لاہور کی قدیم ترین بستیوں میں سے ایک ہے اور اصل پرانا لاہور درحقیقت اچھرہ کے مقام پر آباد تھا۔اسی وجہ سے اندرون لاہور کے لاہوری دروازے کا رخ بھی قدیم لاہور اچھرہ کی طرف ہے۔
* مذہبی اہمیت: اچھرہ میں قدیم مندروں کے آثار بھی ملتے ہیں، جن میں "چاند رات مندر” اور "بھیرو کا استھان” قابلِ ذکر ہیں، جو اس علاقے کی قدیم ہندو تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہندو طب آیورویدک کا بھی اچھرہ خاص طور پر گڑھ رہا ہے۔قیام پاکستان سے قبل مشہور آیورویدک رسالہ "مستانہ جوگی” (زیر ادارت صوفی لچھمن پرشاد) بھی اچھرہ سے شائع ہوتا رہا ہے۔

قاضی ایم اے خالد

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں