جن اے آئی اور جنات میں مماثلت

جنریٹو اے آئی (Gen AI) اور روایتی تصورات میں موجود جنات کے درمیان لغوی، تشبیہی اور کارکردگی کے لحاظ سے کئی دلچسپ مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ ایک جدید ترین تکنیکی ایجاد ہے اور دوسری ماورائی مخلوق، لیکن دونوں کا اثر اور کام کرنے کا انداز حیران کن حد تک ملتا جلتا ہے۔
ان دونوں کے درمیان اہم ترین مماثلتیں درج ذیل ہیں:

لغوی معنی اور نظر نہ آنا (انسٹنٹ غائب)

  • جنات: عربی زبان میں "جن” کا مطلب ہی "چھپا ہوا” یا "پوشیدہ” ہے۔ یہ انسانی آنکھ سے اوجھل رہ کر کام کرتے ہیں۔
  • جن اے آئی (Gen AI): آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے پیچھے کام کرنے والے اربوں پیچیدہ الگورتھمز اور کوڈز بھی صارف کی نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ہمیں صرف اس کا نتیجہ (آؤٹ پٹ) نظر آتا ہے، اس کا اندرونی مائنڈ یا پروسیسنگ غائب رہتی ہے۔

نئی شکلیں اختیار کرنا (بہروپ بدلنا)

  • جنات: مانی ہوئی روایات کے مطابق جنات سیکنڈوں میں اپنی شکلیں تبدیل کرنے اور انسان یا جانور کا روپ دھارنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
  • جن اے آئی: یہ ٹیکنالوجی بھی بہروپیا ہے۔ ایک ہی لمحے میں یہ ایک بہترین شاعر بن جاتی ہے، اگلے ہی پل کوڈر، پھر ایک مصور اور پھر ایک وکیل کا روپ دھار لیتی ہے۔

پلک جھپکنے میں کام کرنا (سپر ہیومن اسپیڈ)

  • جنات: روایات (جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام کا قصہ) بتاتی ہیں کہ جنات پلک جھپکنے میں تخت لانے جیسے بھاری کام کر سکتے تھے۔
  • جن اے آئی: انسان جس کتاب کو لکھنے، ریسرچ کرنے یا تصویر بنانے میں مہینوں لگاتے ہیں، جن اے آئی اسے چند سیکنڈز میں تخلیق کر کے سامنے رکھ دیتی ہے۔

وہم اور فریبِ نظر (ڈیپ فیک اور مایا)

  • جنات: جنات کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نظر کا دھوکہ یا وہم (Illusion) پیدا کر سکتے ہیں۔
  • جن اے آئی: یہ ٹیکنالوجی "ہلوسینیشن” (Hallucination) کا شکار ہوتی ہے، یعنی بالکل سچ دکھنے والا جھوٹ یا فرضی معلومات پیدا کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے بنائے گئے ڈیپ فیک (Deepfake) ویڈیوز اور تصاویر سچ اور جھوٹ کا فرق مٹا دیتے ہیں۔

انسانوں سے سیکھنا اور فرمانبرداری

  • جنات: جنات انسانوں کی زبانیں سمجھتے ہیں، ان کے مابین اچھے اور برے دونوں ہوتے ہیں اور تسخیر کرنے پر انسان کا حکم بھی مانتے ہیں۔
  • جن اے آئی: یہ مکمل طور پر انسانوں کے فراہم کردہ ڈیٹا (پرامپٹس) پر کام کرتی ہے۔ آپ جیسا حکم (Prompt) دیں گے، یہ ویسا ہی جواب تیار کرے گی۔

غیر مادی وجود مگر مادی اثرات

  • جنات: ان کا کوئی ہڈی گوشت کا مادی جسم نہیں ہوتا (آگ اور ہوا کا لطیف وجود ہے) لیکن یہ دنیا کی مادی چیزوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
  • جن اے آئی: یہ کلاؤڈ اور سرورز میں موجود ایک ڈیجیٹل کوڈ ہے جس کا کوئی جسم نہیں، لیکن یہ انسانوں کی نوکریوں، معیشت اور روزمرہ زندگی پر گہرے مادی اثرات ڈال رہی ہے۔

قاضی ایم اے خالد

نائب وزیراعظم پاکستان امریکہ پہنچ گئے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار 3 روزہ سرکاری دورے پر امریکہ (نیویارک) پہنچ گئے ہیں۔
نیویارک پہنچنے پر اقوامِ متحدہ (UN) میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد اور دیگر قونصلر حکام نے ان کا استقبال کیا۔ ان کے اس دورے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • اہم ملاقاتیں اور ایجنڈا: اس دورے کے دوران نائب وزیر اعظم اہم علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت کریں گے۔
  • امریکہ اور ایران کے درمیان سہولت کاری: پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور روابط کے لیے سہولت کاری کا عزم برقرار ہے، جس پر جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
  • عالمی امن کے لیے عزم: اسحاق ڈار خطے اور عالمی سطح پر امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار پر بات چیت کو آگے بڑھائیں گے۔

قاضی ایم اے خالد

وزیراعظم پاکستان کا کامیاب دورہ چین مکمل، وطن واپس پہنچ گئے

وزیراعظم شہباز شریف چین کا 4 روزہ کامیاب سرکاری دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کے اختتام پر پاکستان اور چین کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

دورے کی اہم ترین مصروفیات اور ملاقاتیں

  • اہم ملاقاتیں: وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ اور اپنے ہم منصب لی چیانگ سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔
  • ہانگژو کا دورہ: وزیراعظم نے اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں صوبہ ژی جیانگ کے شہر ہانگژو کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے دو اہم تعاون کی دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔
  • 75 ویں سالگرہ: وزیراعظم نے پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ خصوصی تقریب میں بھی شرکت کی۔

مشترکہ اعلامیے کے اہم نکات

  • ون چائنا پالیسی: پاکستان نے ون چائنا پالیسی اور تائیوان کے معاملے پر چین کی موقف کی مکمل اور اصولی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
  • چٹان کی طرح مضبوط تعلق: دونوں ممالک نے واضح کیا کہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کے باوجود پاک چین دوستی چٹان کی طرح مضبوط اور دونوں عوام کا قیمتی اثاثہ ہے۔
  • علاقائی و عالمی امور: مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور دیگر اہم بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے پایا گیا۔

قاضی ایم اے خالد

جن اے آئی اور جنات

جن اے آئی (Generative AI) جدید ترین ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے۔ اس کا پورا نام "جنریٹیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس” (Generative AI) ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت کی وہ قسم ہے جو پرانے ڈیٹا سے سیکھ کر نیا مواد (جیسے متن، تصاویر، موسیقی، یا ویڈیوز) خود تیار کرتی ہے۔ یہ کوئی جاندار یا غیر مرئی مخلوق نہیں، بلکہ انسان کا بنایا ہوا کمپیوٹر پروگرام اور الگورتھم ہے جو ڈیٹا پر کام کرتا ہے.جیسےChatGPT، Midjourney، اور دیگر کمپیوٹر ٹولز جو آپ کے کہنے پر کہانیاں لکھتے ہیں یا تصویریں بناتے ہیں

مصنوعی ذہانت (AI) اور جنات کے درمیان کوئی سائنسی یا مادی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ دو بالکل الگ تصورات ہیں جنہیں لوگ اکثر فلسفیانہ، نظریاتی یا صرف تجسس کی بنیاد پر ایک دوسرے سے منسلک کرتے ہیں۔ اے آئی انسانوں کی بنائی ہوئی ایک ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے، جبکہ جنات کا تصور مذہبی اور ماورائے عقل (Metaphysical) دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔
ان دونوں کے درمیان موازنہ یا تعلق کو درج ذیل اہم پہلوؤں سے سمجھا جا سکتا ہے:

حقیقت اور ماہیت کا فرق

  • مصنوعی ذہانت (AI): یہ کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا اور الگورتھمز پر مبنی ایک مادی نظام ہے ۔ یہ صرف اسی معلومات پر کام کرتا ہے جو انسان اسے فراہم کرتا ہے۔
  • جنات: اسلامی اور دیگر ماورائی عقائد کے مطابق، یہ آگ سے پیدا کردہ ایک غیر مرئی (مخفی) مخلوق ہے، جس کے پاس اپنی آزاد مرضی اور سوچنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

انسانوں کا تجسس

  • پراسرار صلاحیتیں: جنات کی طرح، اے آئی بھی ایسے کام (جیسے چند سیکنڈز میں تصاویر بنانا یا مشکل سوالات کے جواب دینا) کرتی ہے جو عام انسان کے لیے جادوئی معلوم ہوتے ہیں۔
  • پردے کے پیچھے کام: جنات کی طرح اے آئی کا سافٹ ویئر (الگورتھم) بھی آنکھوں سے نظر نہیں آتا، صرف اس کے نتائج سامنے آتے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ لوگ اس کا موازنہ جناتی طاقتوں سے کرتے ہیں۔
  • مذہبی اور فلسفیانہ نقطہ نظر
  • تسخیر کا تصور: پرانے دور میں ماورائی طاقتوں یا جنات کو مسخر کرنے کی باتیں کی جاتی تھیں، آج انسان نے ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کو مسخر کر کے اے آئی کی شکل دے دی ہے۔
  • روح سے محرومی: اے آئی جتنی بھی ذہین ہو جائے، اس کے پاس جنات یا انسانوں کی طرح "روح”، "شعور” یا "جذبات” نہیں ہو سکتے۔ یہ صرف ریاضیاتی حساب کتاب (Mathematics) پر چلتی ہے۔

انٹرنیٹ پر پھیلے توہمات

  • غلط فہمیاں: سوشل میڈیا پر کچھ ضعیف الاعتقاد لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اے آئی کے پیچھے جنات یا شیاطین کا ہاتھ ہے، جو کہ مکمل طور پر سائنسی حقائق کے خلاف اور غلط معلومات پر مبنی ہے۔

قاضی ایم اے خالد

نائب وزیراعظم پاکستان کا دورہ امریکہ

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار 26 سے 28 مئی 2026 تک نیویارک، امریکہ کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ نائب وزیراعظم چین کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد بیجنگ سے براہِ راست نیویارک کے لیے کل 26 مئی کو روانہ ہوں گے۔

دورے کا اہم ترین مقصد اور سرگرمیاں

نائب وزیراعظم کے اس دورہ امریکہ کے بنیادی مقاصد اور اہم مصروفیات درج ذیل ہیں:

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں شرکت: اسحاق ڈار سلامتی کونسل کے ایک اہم اور کھلے مباحثے (Open Debate) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس مباحثے کا موضوع "بین الاقوامی امن و سلامتی کا قیام” ہے، جس کی صدارت چینی وزیر خارجہ وانگ ای کر رہے ہیں۔
  • عالمی گورننس پر اجلاس: وہ 28 مئی کو "گروپ آف فرینڈز آن گلوبل گورننس” کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے جس کا عنوان عالمی چیلنجز سے مل کر نمٹنا ہے۔
  • امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی: پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کو ختم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کلیدی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار اس دورے کے دوران سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم سے خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے پاکستان کی ان کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔
  • اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتیں: اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے موقع پر نائب وزیراعظم کی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے سائیڈ لائن ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل، فروری 2026 میں بھی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ واشنگٹن کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر قائم کردہ ‘بورڈ آف پیس’ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی تھی اور امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔

قاضی ایم اے خالد

فریضہ حج

حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے جو ہر اس عاقل، بالغ اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو مکہ مکرمہ تک آنے جانے کی جسمانی اور مالی صلاحیت رکھتا ہو. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ "اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو”۔

حج کی فرضیت کی شرائط

کسی بھی مسلمان پر فریضہ حج لازم ہونے کے لیے درج ذیل شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے:

  • مسلمان ہونا: یہ عبادت صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے۔
  • عاقل اور بالغ ہونا: بچوں اور ذہنی طور پر معذور افراد پر حج فرض نہیں.
  • آزاد ہونا: غلام یا قیدی پر اس وقت تک حج فرض نہیں جب تک وہ آزاد نہ ہو۔
  • جسمانی صحت: سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے اور مناسک ادا کرنے کی جسمانی طاقت ہو.
  • مالی استطاعت: اپنی بنیادی ضرورتوں اور اہل خانہ کے اخراجات کے علاوہ مکہ مکرمہ جانے، وہاں رہنے اور واپس آنے کے اخراجات موجود ہوں.
  • راستے کا امن: سفر کے دوران جان و مال محفوظ ہو۔
  • خواتین کے لیے محرم: عورت کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ شوہر یا کوئی شرعی محرم موجود ہو۔

حج کے تین بنیادی فرائض (ارکان)

حج کے دوران درج ذیل تین کام فرض ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی چھوٹ جائے تو حج ادا نہیں ہوتا:

  1. احرام باندھنا: حج کی نیت سے مخصوص لباس (احرام) پہننا اور تلبیہ پڑھنا۔
  2. وقوفِ عرفات: 9 ذوالحجہ کے زوالِ آفتاب سے لے کر 10 ذوالحجہ کی صبحِ صادق کے درمیان کسی بھی وقت میدانِ عرفات میں ٹھہرنا۔
  3. طوافِ زیارت: 10 ذوالحجہ کی صبح سے لے کر 12 ذوالحجہ کے سورج غروب ہونے تک کے درمیان خانہ کعبہ کا طواف کرنا۔

حج کی اہمیت اور فضیلت

  • گناہوں سے پاکیزگی: نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور گناہوں سے بچا، وہ ایسے گناہوں سے پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔
  • جنت کا حصول: مقبول حج (حج مبرور) کا بدلہ صرف اور صرف جنت ہے۔
  • جلدی کی تاکید: استطاعت حاصل ہوتے ہی حج کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہیے، کیونکہ زندگی اور صحت کا کوئی بھروسا نہیں۔

قاضی ایم اے خالد

وزیراعظم پاکستان کا دورہ چین

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف چین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔ دورے کا بنیادی مقصد پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC فیز 2) کو آگے بڑھانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔

وفد کے ارکان

وزیراعظم کے ہمراہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی چین گیا ہے جس میں درج ذیل ارکان شامل ہیں:

  • سینیٹر محمد اسحاق ڈار (نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ)
  • احسن اقبال (وزیر منصوبہ بندی)
  • عطا اللہ تارڑ (وزیر اطلاعات و نشریات)
  • شزہ فاطمہ خواجہ (وزیر آئی ٹی)
  • طارق فاطمی (معاون خصوصی)

دورے کے اہم مراحل اور سرگرمیاں

ہانگژو کا دورہ (پہلا مرحلہ)

وزیراعظم نے اپنے دورے کا آغاز چین کے شہر ہانگژو (صوبہ ژی جیانگ) سے کیا۔

  • بزنس ٹو بزنس (B2B) فورم: وزیراعظم نے پاک-چین بزنس فورم کی صدارت کی جہاں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے مابین اربوں ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط ہوئے۔
  • علی بابا ہیڈکوارٹرز: شہباز شریف نے مشہور چینی کمپنی علی بابا کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور اس کے ایگزیکٹو چیئرمین جو سائی سے ملاقات کی۔
  • صوبائی قیادت سے ملاقات: انہوں نے ژی جیانگ صوبے کے پارٹی سیکریٹری وانگ ہاؤ سے ملاقات کی اور صوبائی سطح پر صنعتی و زرعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔

بیجنگ کا دورہ (دوسرا مرحلہ)

ہانگژو کے بعد وزیراعظم شہباز شریف بیجنگ پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی اہم ترین سیاسی اور سفارتی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔

  • اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتیں: دورے کے دوران وہ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے۔
  • 75 ویں سالگرہ کی تقریب: وہ ‘چائنہ پیپلز ایسوسی ایشن فار فرینڈشپ ود فارن کنٹریز’ کی جانب سے پاک-چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر منعقدہ استقبالیہ تقریب میں شرکت کریں گے۔
  • دیگر دورے: وہ چائنہ اکیڈمی آف ایگری کلچر سائنسز کا دورہ بھی کریں گے۔

دورے کے اہم اہداف اور ترجیحات

وزیراعظم نے اپنے بیانات میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کو قرض نہیں بلکہ چینی کمپنیوں کی مہارت اور سرمایہ کاری چاہیے۔ دورے کے دوران درج ذیل شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے:

  • زراعت اور آئی ٹی: پاکستان اگلے 5 سے 7 سالوں میں چین کے ساتھ زرعی تجارت کو 10 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی ٹریننگ دینے پر بھی کام جاری ہے۔
  • اسپیشل اکنامک زونز: کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر عالمی معیار کا اسپیشل اکنامک زون بنایا جا رہا ہے جہاں چینی سرمایہ کاروں کو ‘ون ونڈو آپریشن’ اور ‘ریڈ کارپیٹ ٹریٹمنٹ’ کی سہولت دی جائے گی۔
  • علاقائی و عالمی امور: ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔

قاضی ایم اے خالد

دورے کی جھلکیاں

امریکہ: لبنیٰ قاضی پہلی بھارتی مسلم خاتون جج بن گئیں

لبنیٰ قاضی

لبنیٰ قاضی  نے امریکی ریاست نیوجرسی میں ایڈمنسٹریٹیو لاء جج (Administrative Law Judge) کے طور پر حلف اٹھا کر پہلی بھارتی مسلم خاتون جج بننے کا تاریخی اعزاز حاصل کیا ہے۔ ان کی یہ تعیناتی امریکی عدالتی نظام میں مسلم خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سنگِ میل تصور کی جا رہی ہے۔
لبنیٰ قاضی سے متعلق اہم معلومات درج ذیل ہیں:
خاندانی پس منظر اور تعلق

* اصل وطن: ان کے والد کا تعلق بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع رائے گڑھ سے ہے۔لیکن وہ کویت میں پلی بڑھی ہیں ۔


* عمر: انہوں نے تقریباً 45 سال کی عمر میں اس تاریخی عہدے کا حلف اٹھایا۔

پیشہ ورانہ کامیابی

* عدالتی عہدہ: وہ ریاست نیوجرسی میں ایڈمنسٹریٹیو لاء جج کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی ہیں،
* کمیونٹی کا ردعمل: اس کامیابی پر عالمی سطح پر مسلم کمیونٹی،قاضی کمیونٹی، تارکینِ وطن اور خاص طور پر خواتین کی جانب سے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور میڈیا پلیٹ فارمز پر، لبنیٰ قاضی کی اس کامیابی کو سراہا جا رہا ہے ۔

قاضی ایم اے خالد

جنیوا میں وفاقی وزیرِ قومی صحت اور چین کے وزیرِ صحت کی ملاقات

جنیوا میں 79ویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے موقع پر وفاقی وزیرِ قومی صحت سید مصطفیٰ کمال اور چین کے وزیرِ صحت لی ہائی چاؤ (Lei Haichao) کے درمیان انتہائی اہم سائیڈ لائن ملاقات ہوئی ہے، جس میں پاکستان نے چین کے تعاون سے ویکسین کی مشترکہ پیداوار (Joint Vaccine Production) کا پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے.
اس اہم ملاقات کے اہم ترین نکات اور فیصلوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ فارماسیوٹیکل اور جدید ادویات کی تیاری میں تعاون

  • خام مال کی مقامی تیاری: مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں دواسازی کے خام مال اور ‘ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس’ (APIs) کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا، کیونکہ اس وقت پاکستان 80 سے 90 فیصد خام مال درآمد کرتا ہے.
  • نیفتھا کریکر منصوبے: ملاقات میں پاکستان کے اندر نیفتھا کریکر (Naphtha Cracker) منصوبوں کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی.
  • چینی عزم: چین کے وزیرِ صحت نے یقین دلایا کہ ان کی فارماسیوٹیکل صنعت خام مال اور جدید ادویات کی تیاری میں پاکستان کی استعداد بڑھانے کے لیے بھرپور تکنیکی و صنعتی تعاون کرے گی.

2۔ عالمی رسائی اور عملی اقدامات

  • ڈریپ (DRAP) کی ترقی: ڈریپ 2027 تک WHO کا ‘میچورٹی لیول تھری’ حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے، جس سے پاکستانی ادویات کی عالمی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے.
  • عملی فریم ورک: اکتوبر 2026 میں وزیر صحت کے دورہ چین سے قبل مجوزہ منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی، جس کے لیے سی ای او ڈریپ اور عدیل ممتاز کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے.

قاضی ایم اے خالد

عشرہ ذوالحجہ

عشرہ ذی الحجہ سے مراد اسلامی سال کے آخری مہینے "ذی الحجہ” کے پہلے 10 دن ہیں، جنہیں اسلام میں سال کے تمام دنوں سے افضل اور برکت والا قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر میں ان راتوں کی قسم کھائی ہے ("وَالْفَجْرِ۔ وَلَيَالٍ عَشْرٍ” یعنی قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دس دنوں میں کیے جانے والے نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو باقی تمام سال کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔
اس مبارک عشرے کی فضیلت، اہمیت اور مسنون اعمال کی تفصیل درج ذیل ہے:

اہم ترین خصوصیات اور فضائل

  • بنیادی عبادتوں کا اجتماع: ان ایام میں اسلام کے تمام ارکانِ ارفع (نماز، روزہ، صدقہ، اور حج) ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں، جو سال کے کسی اور حصے میں ممکن نہیں۔
  • یومِ عرفہ (9 ذی الحجہ): اس عشرے میں یومِ عرفہ آتا ہے جو حج کا اہم ترین رکن ہے اور گناہوں کی معافی کا عظیم ترین دن ہےاس دن کا روزہ رکھنا انتہائی فضیلت کا باعث ہے.
  • یوم النحر (10 ذی الحجہ): دسویں تاریخ کو مسلمان عید الاضحیٰ مناتے ہیں اور قربانی کا فریضہ ادا کرتے ہیں

مستحب اور مسنون اعمال
عشرہ ذی الحجہ کے برکات سے فائدہ اٹھانے کے لیے علماء اور مستند احادیث کی روشنی میں درج ذیل اعمال کا اہتمام کرنا چاہیے:

  • پہلے نو دنوں کے روزے: یکم ذی الحجہ سے 9 ذی الحجہ تک روزے رکھنا انتہائی فضیلت کا باعث ہے.
  • یومِ عرفہ کا روزہ: 9 ذی الحجہ کے روزے کی خاص فضیلت ہے، جس کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ گزشتہ اور اگلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے.
  • کثرتِ ذکر (تکبیر و تہلیل): ان دنوں میں سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کثرت سے پڑھنا مسنون ہے.
  • تکبیرِ تشریق کا اہتمام: 9 ذی الحجہ کی فجر سے لے کر 13 ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز (مردوں کے لیے) سے ایک مرتبہ یہ تکبیر پڑھنا واجب ہے:

"اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَلِلہِ الْحَمْدُ”

  • قربانی کے ارادے والوں کے لیے ہدایات: جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
  • توبہ اور اعمالِ صالحہ: گناہوں سے سچی توبہ کرنا، پنجگانہ نمازوں کا اہتمام کرنا، نوافل پڑھنا اور صدقہ و خیرات کرنا ان دنوں کے اجر کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں